مجھے ایک ایسی تکلیف ہوگئی ہے جس کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی ،جس کی وجہ سے میرے سسرال والوں کو یہ بات بہت بری لگتی ہےوہ مجھے بہت تکلیف دہ باتیں کہتے ہیں، اب میری تکلیف کو بھی ڈرامہ کہتےہیں جس سے میرا دل دکھتاہے، ایک تو میں اپنی تکلیف سے جنگ لڑ رہی ہوں پھر سسرال والوں کی تکلیف دہ باتیں مجھے ماردینگی، لیکن پھر بھی اپنے شوہر کی وجہ سے ہفتہ میں دو دن انکے پاس جاتی ہوں لیکن وہ لوگ اس سے خوش نہیں ہوتے ، وہ کہتے میں وہیں رہوں چاہے جیسے بھی ہو ، میں ان کو بتاچکی ہوں کہ میں شادی شدہ زندگی میں نہیں رہ سکتی اپنی تکلیف کی وجہ سے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کو کچھ بھی نہیں ہے سب ڈرامے ہیں۔ اس لئے میں خلع لینا چاہتی ہوں ،لیکن میرا شوہر نہیں مانتے ،وہ کہتے ہیں کہ میں ان کو نا چھوڑوں، وہ کہتے ہیں کہ وہ ایسا ہی برداشت کر لیں گے۔ اب ہم دونوں بس اللہ سے امید اور بھرو سے پر یہ وقت گزار رہے ہیں کہ اللہ ہماری اس آزمائش کو ختم کردے، لیکن میرے سسرال والوں کو یہ نہیں برداشت۔ وہ کہتے ہیں کہ کب تک ایسا ہوگا؟ اب اس کا میں ان کو کیا جواب دوں ؟میری تکلیف ہی ایسی ہے کہ رہ ہی نہیں سکتی ، نہ مجھے یہ پتہ کہ میری تکلیف کب ختم ہوگی؟ پھر وہ مجھے بہت تکلیف دہ باتیں کہتےہیں ، میری تکلیف کے بارے میں کہتے ہیں کہ ڈرامہ ہے، جس سے میرا دل بہت دکھتا ہے ،میں روتی ہوں جس سے مجھے بہت اسٹریس ہوتا ہے اور اس سے میری طبیعت بگڑتی ہے ، ٹینشن لینا منع ہے ، مجھے اب بتائیں کہ کیا کروں ایسے میں ؟
واضح ہو کہ شریعت مطہّرہ نے دوسرے مسلمان کو ایذا و تکلیف دینے سے سختی سے منع کیا ہے اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے ۔ لہذا سوال میں در ج کردہ بیان اگر واقعۃ ً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائلہ کے سسرال والوں کو سائلہ کی تکلیف اور بیماری کا مذاق اڑانا ، اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا اور سائلہ کے ساتھ ہمدردی اور اسے تسلی دینے کے بجائے اسے طرح طرح کی باتیں سنانا قطعاً جائز نہیں، جس کی وجہ سے وہ لوگ گناہ گار ہو رہے ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل پر توبہ تائب ہو کر آئندہ کے لئے اس سے اجتناب کریں، جبکہ سائلہ کا شوہر اگر سائلہ کو خلع دینے پر رضامند نہ ہو تو سائلہ کو چاہیئے کہ شوہر سے خلع اور علیحدگی کا مطالبہ کرنے کے بجائے اپنی تکلیف اور بیماری سے شفایاب ہونے کے لئے اللہ تعالی سے دعا ئیں مانگنے کا اہتمام کرے اور اس کے ساتھ کسی معالج سے علاج و معالجہ بھی کرائے، ان شاءاللہ امید ہے کہ سا ئلہ کی بیماری اور تکلیف کا ازالہ ہوجائےگا ۔
کما فی البخاری: حدثنا آدم بن ایاس قال: حدثنا شعبۃ ( الی قولہ ) عن عبد اللہ بن عمر و عن النبی ﷺ قال: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ و المھاجر من ھاجر ما نھی اللہ عنہ الخ ( کتاب الایمان، باب المسلم من سلم الخ ، ح:10، ج 1، ص 130، ط:البشری)-
و فی المرقاۃ: تحت الحدیث: المسلم م سلم الخ( قولہ: المسلم) ای الکامل لما تقدم من معنی الایمان او المسلم الحقیقی المتصف بمعناہ اللغوی ( من سلم المسلمون) ای المسلمات اما تغلیبا و اما تبعا و یلحق بھم اھل الذمۃ حکما، و فی روایۃ ابن حبان: من سلم الناس ( من لسانہ ) ای بالشتم و اللعن و الغیبۃ و البھتان و النمیمۃ و السعی الی السلطان و غیر ذالک الخ( کتاب الایمان ، الفصل الاول، ج 1، ص 143، ط: حقانیہ)-
بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام
یونیکوڈ جنسی مسائل 0