آج سے تین ماہ پہلے میڈیکل مسئلہ کی وجہ سے بیوی کو اسقاطِ حمل کروانا پڑ گیا، لیکن اس کی وجہ سے ایک اور تکلیف ہوگئی، جب سے ہر دو یا پانچ دن بعد ہلکے ہلکے خون کے قطرے آتے ہیں، غرض کہ وہ مستقل ناپاکی کی حالت میں رہتی ہے، ڈاکٹر پھر اسے فیملی پلاننگ کی دوا دے رہے ہیں۔
معلوم یہ کرناہے کہ چونکہ یہ مسئلہ تین ماہ سے چل رہاہے، تو کیا ہلکے ہلکے خون کے قطرے نکلنے کے دوران اپنی بیوی سے ملا جاسکتاہے؟ اور اگر انجانے میں مل لیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ خون کے قطرے نکل رہے ہیں تو کیا یہ گناہ کے زمرے میں آئے گا؟ اگر آئے گا تو کفارہ کیا ہوگا؟ اور گر گناہ نہیں ہوا تو چونکہ یہ اب بیماری کا مسئلہ بن گیاہے، تو کیا اس دوران بیوی سے ملا جاسکتاہے؟
مذکور قطرے اگر مسلسل آتے ہوں تو اس سے قبل جتنے دنوں کی عادت تھی، اتنے دنوں کو حیض شمار کرے اور باقی ایام بیماری کےاور ان دونوں کے دوران ہمبستری میں بھی کوئی حرج نہیں۔
فی الدر المختار: (والزائد علی أکثره (استحاضة لو مبتدأة، اما المعتادة فتردّ لعادتها وکذا الحیض. اھ (۱/ ۳۰۰)۔
فی الدر المختار: (ودم استحاضة) حکمه (کرعاف دائم) وقتا کاملًا (لا یمنع صومًا وصلاة) ولو نفلًا (وجماعًا). اھ
فی رد المحتار: تحت (قوله وجماعًا) ظاهره جوازه فی حال سیلانه وإن لزمه منه تلویث. اھ (۱/ ۲۹۸)
بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام
یونیکوڈ جنسی مسائل 0