میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے ہمبستری کی وہ حالتِ حیض میں تھی مگر خون نہیں آرہا تھا، تو میں نے ہمبستری کی اس کے بعد بھی خون نہیں آیا، کیا مجھ پہ کوئی فدیہ ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔
حالتِ حیض میں بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے سائل گناہ گار ہواہے، جس پر اسے چاہیے کہ بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس سے اجتناب کرے، اور توبہ واستغفار کے علاوہ ایک یا آدھے دینار کے بقدر صدقہ بھی کرے۔ مگر اس کا کوئی فدیہ یا کفارہ مقرر نہیں، جبکہ ایامِ حیض میں درمیانی عارضی خون بندش کے دوران بھی ہمبستری کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: ثم ہو کبیرۃ لو عامدًا مختارًا عالما بالحرمۃ لا جاہلا أو مکرہا أو ناسیا فتلزمہ التوبۃ، ویندب تصدقہ بدینار۔ الخ اھـ (ج ۱ ص:۲۹۷)
وفی الرد: تحت (قولہ ویندب إلخ) لما رواہ أحمد وابو داود والترمذی والنسائی عن ابن عباس مرفوعًا فی الذی یأتی امرأتہ وہی حائض، قال: یتصدق بدینار أو نصف دینار ثم قیل إن کا الوطء فی اول الحیض فبدینار أو آخرہ فبنصفہ، وقیل بدینار لو الدم أسود وبنصفہ لو أصفر، قال فی البحر: ویدل لہ ما رواہ أبو داود والحاکم وصححہ إذا وقع الرجل اہلہ وہی حائض، إن کان دما احمر فلیتصدق بدینا، وِن کا اصفر فلیتصدق بنصف دینار (ج؛ ص۲۹۸)۔
بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام
یونیکوڈ جنسی مسائل 0