جنسی مسائل

بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام

فتوی نمبر :
60366
| تاریخ :
1997-12-10
معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / جنسی مسائل

بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جب بیوی کی صحت پر برا اثر پڑتا ہو تو مباشرت نہیں کرنی چاہۓ ، اور اس وقت بھی جبکہ بیوی کا ایک بچہ پیدا ہوا ہو ، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ دوسرے بچے کی پیدائش کے صورت میں پہلے بچے کے صحت پر بھی برا اثر پڑے اور ماں کے صحت پر بھی۔
اور لوگ اس سے بچنے کیلئے پھر مختلف قسم کے طریقے استعمال کرتے ہیں یعنی اپنے شرمگاہ کو غبارہ پہناکر ، اپنی منی کو روک دیتے ہیں ،اور ویسے مباشرت کرتے ہیں ، اور دوسرا طریقہ یہ کہ اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگاکر اپنی خواہش پوری کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ جب بیوی نہ ہو ، تو بھی ہاتھ لگاکر اکثر اپنی خواہش پوری کرتے ہیں۔
برائے مہربانی مجھے ان باتوں نے اُلجھن میں ڈالا ہے ، کیا یہ سب کچھ اسلام کے رو سے جائز ہیں ؟ اگر جائز ہیں تو کس حد تک؟ برائے مہربانی مجھے جلد از جلد وضاحت لکھ کر تسلی فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفلسی کے خوف سے ایسی مانع حمل اشیاء کا استعمال ، یا وہ طریقہ کہ جس سے دائمی طور پر بچہ پیدا ہونے کی صلاحیت بالکل ختم ہوجائے قطعاً ناجائز اور حرام ہے، البتہ وقتی اور عارضی طور پر کسی ضرورت کی بناء ، پر مثلاً بار بار اولاد کے پیدا ہونے کی وجہ سے عورت کی جان کو خطرہ ہو ، یا ایک بچہ کی موجودگی میں دوسرے بچے کی عدمِ پرورش کی بناء پر اس کی جان کو خطرہ ہو ، اور ماہر ڈاکٹر بھی اس کا مشورہ دے دیں ، تو مانعِ حمل اشیاء کی عارضی تدابیر ، خواہ وہ عزل کی صورت میں ہوں یا غبارہ اور دیگر عارضی تدابیر ہوں ، ان کے اختیار کرنے کی شرعاً گنجائش ہے ، وہ بھی اس وقت جبکہ اس عمل سے کوئی ناجائز مقصد نہ ہو ، اور بغیر کسی ضرورت کے مانع حمل تدابیر اختیار کرنا مکروہ ہے۔
(۲) شادی شدہ انسان کیلئے بیوی کی موجودگی میں ہاتھ وغیرہ کے ذریعہ اپنی شہوت پوری کرنا قطعاً درست نہیں ، اس سے احتراز ضروری ہے، البتہ اگر کبھی خدا نخواستہ ایسے حالات بن جائیں کہ گناہ میں پڑنے کا یقین ہو جاۓ ، تو بوقتِ ضرورت اس کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر مع الرد : قولہ الاستمناء حرام أی بالکف اذا کان لاستجلاب الشہوۃ ، أما اذا غلبتہ الشہوۃ و لیس لہ زوجۃ و لا أمۃ ففعل ذٰلک لتسکینہا ، فالرجاء أنہ لا و بال علیہ کما قال ابو اللیث اھـ (ج۴، ص۲۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60366کی تصدیق کریں
0     939
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ماہواری کے دوران ہمبستری کا کفارہ

    یونیکوڈ   اسکین   جنسی مسائل 0
  • ماہواری میں میں بیوی کے حقوق وقیودات

    یونیکوڈ   اسکین   جنسی مسائل 0
  • ماموں کی وفات کے بعد اُس کی بیوی (ممانی) سے بھانجے کا نکاح کرنا

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
  • بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
  • شوہر ازدواجی تعلق کے لیےاگرغیر فطری طریقہ اختیار کرے تو بیوی کیلئے کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
  • بیوی سے ہمبستری کی ایک خاص صورت کا حکم

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 1
  • شوہر کے لئےبیوی کا دودھ پینے کا حکم

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
  • خاتون کو مستقل خون آنے کی صورت میں میاں بیوی کے ملاپ کا حکم

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
  • حالتِ حیض میں بیوی سے مباشرت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
  • حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کے ہاتھ سے جنسی تسکین کروانے کا حکم

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 1
  • اولاد مرد کی قسمت سے ہوتی ہے یا عورت کی؟

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
  • عذر کی وجہ سے بیوی کے پیچھے کے راستے سے خواہش پوری کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
  • خنثی کی جنسی خواہش کیسے پوری ہوگی

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
  • ہمبستری کی وجہ سے تکلیف ہونے کی صورت میں بیوی کیلئے حکم

    یونیکوڈ   جنسی مسائل 0
Related Topics متعلقه موضوعات