کیافاریکس ٹریڈنگ جائز ہے ؟کیا فاریکس ٹریڈنگ قرآن وسنت کے حساب سے کر سکتے ہیں ۔
فاریکس ٹریڈنگ بھی سود اور قمار کی ایک قسم ہے ، جس میں عام طور پر خرید وفروخت مقصود نہیں ہوتی،بلکہ فرق برابر کرکے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کاروبار میں قبضہ کے بغیر وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے جو شرعاً جائز نہیں ہے ، اس لئے عام حالات میں تو یہ کاروبار قطعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے،اور شریک ہو جانے کی صورت میں بھی فوراً اس کاروبار سے الگ ہونا لازم ہے ، تاہم اگر کسی شخص کا کوئی وکیل اس طرح کے سامان (کرنسی وغیرہ)پر قبضہ کر کے آگے بیچے تو بلاشبہ اس کا نفع حلال ہوگامگر عموماً اس کاروبار میں ایسا نہیں ہوتا اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ:{ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [المائدة: 90]۔
وفی المشکوٰۃ:عن ابن عباس قال اما الذی نہی عنہ النبیﷺ فھوالطعام ان یباع حتیٰ یقبض قال ابن عباس و لا أحسب کل شی الامثلہ متفق علیہ(247)۔
وفی الھندیۃ: السباق يجوز(الی قولہ) وإنما يجوز ذلك إن كان البدل معلوما في جانب واحد بأن قال: إن سبقتني فلك كذا، وإن سبقتك لا شيء لي عليك أو على القلب، أما إذا كان البدل من الجانبين فهو قمار حرام إلا إذا أدخلا محللا بينهما الخ(الباب السادس فی المسابقۃ ج5 ص324 ط:ماجدیہ)۔