السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!حضرت جی میں کالج میں پڑھتاہوں ،وہاں مخلوط تعلیمی نظام ہے،کیاجب کسی خاتون کو کوئی کام ہوتو اسے کام کرکے دیناکیسا ہے ؟اور سوالات کے جوابات واٹس ایپ پر ٹیکسٹ یا وائس کی صورت میں دینا کیسا ہے ؟میری کزن بھی ادھر کالج میں پڑھتی ہے ،اسے اکثر واپس گھر لانا پڑتاہے ،میں درمیان میں کوئی سامان وغیرہ رکھتا ہوں اورکیامیں اسے بہن کہہ سکتاہوں ؟ اس بارے میں حکم فرمادیں ۔جزاک اللہ خیرا
واضح ہوکہ نامحرم مرد وعورت کابلاضرورت آپس میں بات چیت ،ہنسی مذاق،ملناجلنا وغیرہ شرعاً ناجائز اور گناہ ہے ،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے،لہذا سائل کوبھی مخلوط نظام تعلیم میں نامحرم لڑکیوں کو دیکھنے اور بلاضرورت بات چیت،ہنسی مذاق وغیرہ سے مکمل اجتناب لازم ہے،البتہ اگر واقعۃً تعلیمی کسی کام کیوجہ سے ہم جماعت لڑکیوں سے رابطہ کرناپڑجائے،تو اس میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتے ہوئےفقط کام کی حدتک ان سے رابطہ کرنے کی گنجائش ہے ،جبکہ سائل کے لئے اپنی کزن کوبائیک پر لانا ،لے جانا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ اس کے لئے کسی محرم کاانتظام کیا جاناچاہیئے۔
کما فی الدرالمختار: ولایکلم الاجنبیۃ الا عجوزا عطست او سلمت فیتشمھا ویردالسلام علیھا والا لا الخ ( ج 6 صـ 369 کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی النظر والمس ط: ایچ ایم سعید )۔
وفیہ ایضا: ( وتمنع ) المراۃ الشابۃ ( من کشف الوجہ بین الرجال) لا لانہ عورۃ بل ( لخوف الفتنۃ ) کمسہ وان امن الشھوۃ لانہ غلظ الخ ( ج 1 صـ 406 کتاب الصلاۃ باب شروط الصلاۃ ط: ایچ ایم سعید )۔
وفی ردالمحتار تحت ( قولہ:الخلوۃ بالاجنبیۃ )ای الحرۃ لما علمت من الخلاف فی الامۃ وقولہ:حرام قال فی القنیۃ مکروہ کراھۃ تحریم الخ (ج 6 صـ 368 کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی النظر والمس ط:ایچ ایم سعید)۔