آج کل STATE IFE میں "طیب تکافل" کے نام سے ایک پالیسی آئی ہے ، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا اس میں کام کرنا یا پالیسی لینا جائز ہے ؟ جزاک اللہ
صورت مسئولہ میں طیب تکافل اگر مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں وقف وغیرہ شرعی اصول و ضوابط کے عین مطابق کام کررہا ہو ، تو ان کی پالیسی لینے یا اس ادارہ میں ملازمت کرنے کی گنجائش ہوگی ، ورنہ نہیں۔
قال اللہ تعالی: وَتَعَاوَنُـوْا عَلَى الْبِـرِّ وَالتَّقْوٰى ۖ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (مائدہ ۔ آیۃ 2)
وفی صحیح البخآری:قال رسول اللہﷺ : انک ان تدع ورثتک اغنیاء خیر من ان تدعھم عالۃ یتکففون الناس الخ(ج3 رقم1303)۔