میں نے دعوت دینی تھی دوستوں کو ایک خوشی کے موقع کی , اور دوستوں میں کچھ خاص لوگ بھی شامل تھے اور انہیں بتایا کہ دعوت میں آپ معزز لوگوں کے پیسے میں اپنے حلال پیسے سے دوں گا اور باقی دوستوں کے پیسے میں سود والے پیسوں سے دوں گا ، پھر ایک منتخب کردہ اپنے دوست کو میں نے پیسے بینک سے بھیج دیے اور میرے بینک میں موجودہ رقم میں اصل رقم اور جو بینک نے سود دیا تھا، دونوں ایک ہی سیونگ اکاؤنٹ میں تھے تو جو میں نے زبان دی تھی اور جو کہ نیت تھی، اس کے مطابق کیا تو دعوت میں جو باقی دوستوں نے کھایا، وہ تو سود تھا(اللہ معاف کرے) اور جو معزز لوگوں کو کھلایا، وہ حلال کے پیسوں سے کھلایا تو وہ باقی معزز دوستوں والی رقم بھی حرام ہو گی یا حلال ہو گی?
واضح ہو کہ حرام رقم اپنے استعمال میں لانا یا اس رقم سے دوستوں کی دعوت کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ حرام رقم اصل مالکان یا ان کے ورثاء تک پہنچانا لازم ہے، لیکن اگر اصل مالکان یا ان کے ورثاء معلوم نہ ہوں یا ان تک رقم پہنچانا (قانوناً یا کسی بھی وجہ سے) ناممکن ہو تو ایسی صورت میں حرام رقم کسی فقیر (مستحقِ زکوٰۃ) کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے، سائل نے حلال رقم سے معزز لوگوں کی جو دعوت کی ہے، وہ تو حرام نہیں ہوئی، البتہ حرام رقم سے دعوت کرنا شرعاً جائز نہیں تھا، جس کی وجہ سے سائل گناہ گار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہِ کبیرہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لئے دوبارہ اس قسم کے حرام کاموں سے مکمل اجتناب کرے اور جتنا جلدی ممکن ہو، اپنا سودی اکاؤنٹ بند کروائے اور اب تک جو سودی رقم وصول کرچکا ہے، اس کے بقدر رقم فقیر(مستحقِ زکوٰۃ) کو بلانیتِ ثواب صدقہ کردے۔
ففی حاشية ابن عابدين: والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه ففي الذخيرة: سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور، وإن أكلت من طعامه ولم يكن عين ذلك الطعام غصبا فهي في سعة من أكله وكذا لو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من تناوله والإثم على الزوج. اهـ (قوله وسنحققه ثمة) أي في كتاب الحظر والإباحة. قال هناك بعد ذكره ما هنا لكن في المجتبى: مات وكسبه حرام فالميراث حلال، ثم رمز وقال: لا نأخذ بهذه الرواية، وهو حرام مطلقا على الورثة فتنبه. اهـ. ح، ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله كما حققناه قبيل باب زكاة المال فتأمل. (5/ 99)
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0