میرا سوال یہ ہے کہ میں جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں اور میرے پاس اسکالرشپ کا ایک بہت اچھا آپشن ہے، اس کیلئے مجھے کوریا سفر کرکےچار سال کیلئے وہاں اقامت کرنے کی ضرورت ہے، میں جس یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا سوچ رہی ہوں، وہاں بہت سارے مسلمان طلباء ہیں اور کوریا میں مسلم آبادی بھی ہے، لیکن میرے والدین مجھے محرم کے ساتھ سفر کرنا ضروری کہتے ہوئے نہیں جانے دے رہے ہیں، جبکہ میرے ساتھ کوئی محرم نہیں ہے، کیونکہ میرے والدین الگ ہوگئے ہیں اور میرا کوئی بھائی نہیں ہے، میں 19 سال کی ہوں،ابھی شادی نہیں کرسکتی ، بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا میرا خواب ہے، میں نے حدیث اور قران کی تعلیم حاصل کی ہے اور میں اس کا بہت احترام کرتی ہوں، اگر کوئی لڑکی بیرون ملک میں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہو،لیکن اس کے پاس محرم نہ ہو،اور پاکستان کا تعلیمی نظام بیکار ہے، براہِ کرم اس معاملے میں میری مدد کریں۔
واضح ہو کہ عورت کیلئے شوہر یا کسی محرم کے بغیر اڑتالیس میل یعنی تقریباً 78 کلو میٹر یا اس سے زائد سفر کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ احادیثِ مبارکہ میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے، لہذا سائلہ کیلئے بغیر محرم کوریا کا سفر کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ اپنےملک میں بھی بہت سارے معیاری ادارے موجود ہیں، اس لیے باہر ملک جانے کےبجائے اپنے ہی ملک میں تعلیم کو ترجیح دینی چاہیئے۔
کما فی تفسير القرطبي: " وأرض الله واسعة" فهاجروا فيها ولا تقيموا مع من يعمل بالمعاصي۔اھ (15/240)
وفی صحيح مسلم: عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تسافر المرأة ثلاثا، إلا ومعها ذو محرم۔الحدیث (2/ 975)
وفی بحوث في قضايا فقهية معاصرة: (سفر المرأة بغير محرم:) أخرج مسلم عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: قال رسول الله ﷺ: ((لا تسافر المرأة فوق ثلاث إلا ومعها زوج أو ذو رحم محرم منها)) هذا الحكم الصريح قد أخذ به جمهور الفقهاء، حتى إنهم لم يجوزوا لها أن تسافر بدون محرم لضرورة الحج، وأن الدراسة والعمل في البلاد الأجنبية ليس من ضرورة النساء المسلمات في شيء، إن الشريعة لم تأذن للمرأة بالخروج من دارها إلا لحاجة ملحة، وقد ألزم أباها وزوجها بأن يكفل لها بجميع حاجاتها المالية، فليس لها أن تسافر بغير محرم لمثل هذه الحوائج۔اھ (ص: 339)واللہ اعلم