السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!عقیقہ کا بکرا کتنی عمر کا ہو اور عقیقہ کب ہونا چاہیئے؟
واضح ہو کہ عقیقہ کے جانور کے لئے بھی وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانور کے لئے ہیں، لہذا اگر عقیقہ میں بکرا/بکری ذبح کرنا ہو، توقمری لحاظ سے اس بکرے/بکری کی عمر کم از کم ایک سال ہو، اس سے ایک دن بھی کم نہ ہو۔ جبکہ عقیقہ بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن کرنا مستحب ہے، اگر کسی وجہ سے ساتویں دن نہیں کیا تو پھر چودہویں دن، ورنہ اکیسویں دن کرلینا چاہیئے ، اس کے بعد عقیقہ کرنا مستحب نہیں، بلکہ مباح ہے، البتہ بعد میں جب بھی عقیقہ کرنا ہو تو پیدائش سے ایک دن پہلے کرنا چاہیے، مثلاً اگر جمعہ کو پیدا ہوا ہو تو جمعرات کے دن یا اگر منگل کو پیدا ہوا ہو تو پیر کے دن عقیقہ کرنا چاہیئے ۔
ففی سنن الترمذي: عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الغلام مرتهن بعقيقته يذبح عنه يوم السابع، ويسمى، ويحلق رأسه حدثنا الحسن بن علي الخلال، قال: حدثنا يزيد بن هارون، قال: أخبرنا سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه.هذا حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم يستحبون أن يذبح عن الغلام العقيقة يوم السابع، فإن لم يتهيأ يوم السابع فيوم الرابع عشر، فإن لم يتهيأ عق عنه يوم حاد وعشرين، وقالوا: لا يجزئ في العقيقة من الشاة إلا ما يجزئ في الأضحية. بشار (3/ 153)
وفى اعلاء السنن: انها ان لم تذبح فى السابع ذبحت فى الرابع عشرو والا ففى الحادي والعشرين ثم هكذا فى الاسابيع اھ (117/17)
وفيه ایضا: عن الحسن البصري: اذا لم یعق عنك فعق عن نفسك وان کنت رجلا اھ (134/17)
وفی حاشية ابن عابدين: يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي اھ (6/ 336)