السلام علیکم ۔
میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے اور میں اسے کہتا ہوں کہ میں آپ کو 1000 روپے کی دلادوں گا اور مجھے وہ چیز پیچھے سے 600 روپے کی ملی اور میں نے جس سے خریدی تھی اس سے کہا سیدھا دوسرے کے ایڈریس پر بھیج دیں اور میں نے درمیان میں 400 روپے رکھ لیے ،کیا یہ میرے لئے حلال ہے؟
نوٹ: سائل مذکور خریداری میں مبیع پر قبضہ کیے بغیر آن لائن آگے بیجتا ہے ۔
واضح ہو کہ خرید و فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے وہ اسکی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو ، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے تو بیع درست نہیں ہوتی بلکہ باطل اور کالعدم شمار ہوتی ہے،
لہذا سوال میں ذکر کردہ ڈراپ شپنگ کے کاروبارمیں اگر سائل کسی چیز کو اپنے حسی اور معنوی قبضے میں لائے بغیر آگے بیجتاہو تو شرعاًایسا کرنا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
(الف) ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والا (سائل) معاملہ کی ابتداء میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کو بیچ رہا ہوں بلکہ یہ کہے کہ یہ چیز بیچنے کا معاہدہ کرتا ہوں اس طرح یہ بیع نہیں بلکہ وعدۂ بیع ہو جاتا ہے، اور اسوقت رقم لینا ہامش جدیہ (پیشگی ادائیگی کے طور پر درست ہوگا)، پھر وہ ہول سیلر / دکاندار سے مطلوب آئٹم خرید کر خود یا وکیل کے ذریعہ حسی یا معنوی قبضہ میں اس طور پر لے کہ وہ سائل کے ضمان (risk) میں آجائے ، تب وہ خریدار کو فروخت کر کے ڈلیور کر دے۔
(ب) دوسری جائز متبادل صورت وکالت / دلال (brokerage) کی ہے کہ سائل گاہک سے آرڈر لے اور مطلوبہ چیز ہول سیلر یادکاندار سے خرید کر گاہک تک پہنچائے یا وہ ہول سیلر / دکاندار خود پہنچادے اور سائل اپنی محنت کی طے شدہ اجرت لے.تو اس صورت میں اصل بائع وہ ہول سیلر / دکاندار ہوگا اور سائل کی حیثیت ایک وکیل یا (middle man) کی ہوگی، جو شریعت میں ایک قابل عوض محنت ہے جس پر مقررہ ومتعین اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
كما في الهداية: قال ولا يجوز بيع السمك قبل ان يصطاد ) لانه باع مالا يملكه . (ولا في حظيرة اذا كان لا يوخذ الابصيد لانه غير مقدور التسليم، ومعناه اذا اخذه ثم القاه فيها لوكان يوخذ من غير حيلة جاز الا اذا اجتمعت فيها بانفسها ولم يسد عليها المدخل لعدم الملك قال: ( ولا بيع الطير فى الهواء) لانه غير مملوك قبل الاخذ وكذا لوارسله من يده لانه غير مقدور التسليم اهـ (34/3)۔
وفي الدر المختار: واما الدلال فان باع العين بنفسه باذن ربها فاجرته على البائع وان سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الومبانية. وفي الشامية تحت (قوله: يعتبر العرف فتجب الدلالة على البائع او المشترى او عليهما بحسب العرف ,جامع الفصولين اهـ (560/4) .
وفي الهداية ولا يجوز بيع السمك قبل ان يصطاد ( لانه باع مالا يملكه-(34/4)۔
وفي الفتح: ومثل الأمر المضارع المقرون بالسين نحو سابيعك فلا يصح بيعا ولا يجوز به في بعتك في الحال لو (251/6)۔