میں پاک ای اسٹور کمپنی میں ورک کر رہاہوں ،اس میں پہلی بار خریداری کرنی ہوتی ہے ، بعد میں اس کے لئے ممبر لانا ہوتاہے،کمپنی کی پروڈکٹس میں شیمپو اور فیس واش وغیرہ ہیں ، اور ممبر بنانے پر ہمیں ڈائریکٹ کمیشن ملتا ہے، کیا یہ حلال ہے یا حرام ہے؟ جائز ہے یا ناجائز؟ وضاحت فرمائیں، جزاک اللہ خیراً کثیراً !
پاک ای اسٹور کمپنی بھی اگر نیٹ ورک مارکیٹنگ کے طرز پر کام کر رہی ہو، جیسا کہ دیگر مختلف کمپنیاں نیٹ ورک مارکیٹنگ (Network Marketing) یا ملٹی لیول مارکیٹنگ ( Multi Level Marketing) کے طریقۂ کار پر کام کر رہی ہیں، تو اس طرح کی کمپنیوں میں عموماً مصنوعات کی خرید و فروخت اصل مقصد نہیں ہوتا، بلکہ ممبر سازی کے ذریعے کمیشن در کمیشن کا کاروبار چلانا مقصد ہوتاہے، جو کہ جوئے کی ایک نئی شکل ہے، نیز مذکور طرز کے کاروبار میں دیگر بہت سارے مفاسد بھی موجود ہیں، لہذامذکور طریقۂ کار کے مطابق کاروبار کرنے والی کسی بھی کمپنی کیساتھ کام کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
كما في التنزيل العزيز : يا أيها الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْحَمْرُ و الميسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ من عمل الشيطان فاجتنبوه لعَلَّكُمْ تُفْلِحُون اھ [المائدة: 90]۔
و فى أحكام القرآن للجصاص : و حقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار إلخ (4/127)۔
و فی المبسوط للسرخسی : و لا تجوز الإجارة على شيء من الغناء و النوح و المزامير و الطبل و شيء من اللهو ؛ لأنه معصية و الإستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا و لا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا، وكذلك الاستئجار على الحداء ، وكذلك الاستئجار لقراءة الشع ؛ لأن هذا ليس من إجارة الناس و المعتبر في الإجارة عرف الناس إلخ (38/16)۔