ازدواجی زندگی میں میاں بیوی کے تعلق میں غیر فطری عمل جو حرام قرار دئیے گئے ہیں ، اگر ان کو کرنے پر شوہر کی جانب سے مجبور کیا جائے اور منع کرنے پر مار پیٹ کی جائے ، ایسے میں بیوی کو کیا اقدام اٹھانے کی اجازت ہے ؟
صورت مسئولہ میں سائلہ نے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی غیر فطری صورت کی وضاحت نہیں کی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر غیر فطری عمل سے مراد شوہر کا بیوی کے ساتھ پچھلے راستہ سے جماع کرنا مراد ہو تو یہ عمل شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، اور احادیث مبارکہ میں ایسے شخص پر لعنت وارد ہوئی ہے, لہٰذا شوہر کے لئے اس فعلِ حرام کا ارتکاب کرنا اور بیوی کے انکار کرنے کی صورت میں اسے مار پیٹ کر کے مجبور کرنا شرعاً اور اخلاقاً نا جائز اور حرام فعل ہے ، جس سے اجتناب لازم ہے ، تاہم اگر شوہر اس غیر شرعی فعل سے باز نہ آرہا ہو اور بیوی کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ اسے ترک کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو بیوی اس سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرکے آزادی حاصل کرسکتی ہے ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : ( نساؤکم حرث لکم فاتو حرثکم انی شئتم ) بدل علی ان اباحۃ الوطء مقصورۃ علی الجماع فی الفرج لانہ موضع الحرث ، و اختلف فی اتیان النساء فی ادبارھن فکان اصحابنا یحرمون ذلک و ینھون عنہ اشد النھی و ھو قول الثوری و الشافعی ( الی قولہ ) رواہ خزیمۃ بن ثابت و ابو ھریرۃ و علی بن طلق کلھم عن النبی ﷺ ان قال : لا تاتو النساء فی ادبارھن ( الی قولہ ) عن النبی ﷺ قال ھی اللوطیۃ الصغرٰی یعنی اتیان النساء فی ادبارھن الخ ( سورۃ البقرۃ ج 1 صـــــ ـ352 ط سہیل اکیڈمی لاھور ) ۔
و فی الھدایۃ : و اذا تشاق الزوجان و خافا ان لا یقیما حدود اللہ فلا باس بان تفتدی نفسھا منہ بمال یخلعھا بہ فاذا فعل ذلک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ ، و لزمھا المال الخ ( باب الخلع ج 2 صـــــ 138 ط : بشرٰی )۔
و فی الفتاوی التاترخانیۃ : و فی الھدایۃ : و اذا تشاق الزوجان و خافا ان لا یقیما حدود اللہ فلا باس بان تفتدی نفسھا منہ بمال یخلعھا ، و فی الزاد : و اذا فعل ذلک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ و لزمھا المال الخ ( الفصل السادس ج 5 صـــ 1 ط : رشیدیہ)۔
بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام
یونیکوڈ جنسی مسائل 0