انفارمیشن ٹیکنالوجی

گیسٹ بلاگنگ اور گیسٹ پوسٹنگ کا حکم

فتوی نمبر :
68736
| تاریخ :
0000-00-00
جدید فقہی مسائل / ٹیکنالوجی / انفارمیشن ٹیکنالوجی

گیسٹ بلاگنگ اور گیسٹ پوسٹنگ کا حکم

Guest blogging : Questionکا کام جا ئز ہے یا نہیں ? اس میں آپ low rank website کے high rank websit ، articles کے ایڈمن سے deal کرکے websites پر publish کرواتے ہیں ,اس کی مختلف categories ہوتی ہیں ,جیسے fashion, game, technology, health, pets, اور Gambling کی sites بھی ہوتی ہیں۔اب جو high rank websites ہیں ,جن پر آپ نے client کا article ان سے ڈیل کرکے publish کروانا ہے ,وہ اپنی website پر اچھے آرٹیکلز بھی لگاتے ہیں ,اور اس میں سار ی categories آ جاتی ہیں, ان articles میں عورتوں کی تصویر بھی ہوتی ہے, کچھ لوگ websites پر Gambling سے متعلق آرٹیکلز بھی لگاتے ہیں , اس صورت میں کیا آپ کا high rank websites پر articles لگانا صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

"گیسٹ بلاگنگ" جسے "گیسٹ پوسٹنگ" بھی کہا جاتا ہے ،جس میں (GUEST BLOGERS) آرٹیکل لکھنے والے افراد اپنی مہارت اور تجربہ کی بنیاد پر اس طرح مضامین لکھ کر ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیتے ہیں ،جس کے ذریعہ عام لوگوں کو اس ویب سائٹ کی طرف راغب کرکے اس کی ٹریفک کو بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے ،اور اس کی وجہ سے وہ ویب سائٹ گوگل پر دیگر ویب سائٹس کے مقابلہ میں اوپر آجاتی ہے ،اور اسی عمل کو (SEO) بھی کہا جاتا ہے ،لہٰذا جس ویب سائٹ کی (SEO)مقصود ہو ،اگر اس کی بنیادی پالیسی یا کاروبار خلافِ شریعت نہ ہو ، اور اس کیلئے آرٹیکل لکھنے والے افراد کے مضامین غیر شرعی امور کو فروغ دینے پر مشتمل نہ ہوں ، تو جائز امو ر پر مشتمل آرٹیکل لکھنے والے افراد کیلئے اپنے (LOW RANK WEBSITE) کو کسی (HIGH RANK WEBSITE) کے ساتھ جوڑنے اور لنک کرنے کی گنجائش ہے ،تاہم اگر (HIGH RANK WEBSITE) پر جوا ، وغیرہ غیر شرعی امور پر مشتمل آرٹیکل یا تشہیری مواد ہوتو ان کے لئے ایسا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، اور اس کی کمائی بھی حلال نہ ہوگی ، لہذا انہیں غیر شرعی امور سے اجتناب لازم ہے ۔


مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ : وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى وَ لَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدہ /2)۔
و فی الہندیۃ : و لا تجوز الإجارة على شيء من الغناء و النوح و المزامير و الطبل و شيء من اللهو و على هذا الحداء و قراءة الشعر و غيره و لا أجر في ذلك و هذا كله قول أبي حنيفة و أبي يوسف و محمد رحمهم الله تعالى. كذا في غاية البيان.اھ(4/449)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68736کی تصدیق کریں
0     1327
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فری لانسنگ (Free Lancing) کاروبارکا شرعی حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 3
  • زونگ فرنچائز کی بزنس کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • گیم بنانا - ویڈیو گیمز بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • قوالی اور گانا گانے والوں کیلئے ویب سائٹ بنانا

    یونیکوڈ   اسکین   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • سافٹ ویئر انجینئر کی آئی ٹی ملازمت

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • چوری شدہ سافٹ وئیر استعمال کرنا - Pirated Softwares

    یونیکوڈ   اسکین   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • مختلف ویب سائٹ پر فری لانسنگ(Freelancing) کا کام کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • نیٹ کا غلط استعمال کرنے والے کو انٹرنیٹ کنکشن دینا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • دورِ حاضر میں ، حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کی ضرورت کی بناء پر ، گھر میں ،ٹی وی رکھنا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • دینی مجالس کی ویڈیو بنانا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • گیسٹ بلاگنگ اور گیسٹ پوسٹنگ کا حکم

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • ایسا سافٹ ویئر بنانا جس کو جائز و ناجائز دونوں طرح کے کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہو

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 2
  • آنلائن پڑھانے کیلئے لڑکی کا نقاب کے ساتھ تصویر اپلوڈ کرنا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 1
  • مالک کی اجازت کے بغیر سافٹ ویئر فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
  • بغیر اجازت سافٹ وئیر استعمال کرکے کفارہ دینا

    یونیکوڈ   انفارمیشن ٹیکنالوجی 0
Related Topics متعلقه موضوعات