آج کل ملٹی میڈیا اور انٹرنیٹ کا دور ہے میرا سوال ہے کے فارکس ٹریڈنگ کا کاروبار حلال ہے یا حرام ہے
یہ بھی ایک قسم ہے سٹاک مارکیٹ کی اؤر کیا سٹاک مارکیٹ بھی حلال ہے یہ حرام
فاریکس کا کاروبار شرعا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کا طریقہ کار ہمارے علم کے مطابق یہ ہے، کوئی شخص براہ راست اس مارکیٹ میں خریداری کا اہل نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی کمپنی میں کچھ رقم مثلاً ایک ہزار ڈالر سے اپنا اکاؤنٹ کھلواکر اس کے ذریعے اس مارکیٹ میں داخل ہوتاہے، اور یہ کمپنیاں دیگر سہولیات کے علاوہ ایک بڑی رقم کی ضمانت بھی اسے فراہم کرتی ہیں، انٹرنیٹ پر مارکیٹ کے حوالے سے مختلف اشیاء کے ریٹ پر آرہے ہوتے ہیں، اور لمحہ بہ لمحہ کم زیاہ ہوتے رہتے ہیں، یہ شخص کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم سے کوئی سودا کرتاہے، اور پھر ریٹ بڑھتے ہی اسے آگے فروخت کرکے نفع کماتاہے، اور اگر قیمت گر جاتی ہے تو یہ اس کا نقصان شمار ہوتاہے، کمپنی ایک ٹریڈ مکمل ہونے پر اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتی ہے اور اگر مقرہ وقت پر سودا مکمل نہ ہوکے تو کمپنی اس کے بعد مزید چارجز بھی وصول کرتی ہے اور اس شخص کا کوئی چیز خرید اور فروخت کرنا سب کاغذی کاروائی ہوتی ہے، خریدی ہوئی اشیاء پر نہ قبضہ ہوتا اور نہ قبضہ کرنا مقصود ہوتاہے، بلکہ محض نفع ونقصان برابر کیا جاتاہے، اس لیے یہ سٹہ کی ایک صورت ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
اور کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم پر کمیشن یا قرض پر سود ہے، یا کفالت کی اجرت ہے، اور یہ دونوں چیزیں شرعا ناجائز ہیں، لہٰذا اس کاروبار میں شریک ہونا اور نفع کمانا شرعا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔ (ازتبویب)
جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں جائز کاروبار پر مشتمل کمپنیوں کے شیئرز کی خریدفروخت درج ذیل شرائط کے جائز اور درست ہے۔
(۱) جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہیں اس کا اصل کاروبار حلال ہو۔
(۲) اس کمپنی کے کچھ فکسڈ اثاثے (Fixd Assets) بھی وجود میں آچکے ہوں ، یعنی صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں ، ورنہ فیس ویلیو (Face Value) کے برابر رقم کے ساتھ ہی خرید و فروخت جائز ہوگی۔
(۳) ماہانہ یا سالانہ نفع کی کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو ، بلکہ آمدنی سے فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو۔
(۴) نفع و نقصان دونوں میں شراکت ہو۔
(۵) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے ، تو اس کی سالانہ میٹنگ (A.G.M) میں سود کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔
(۶) جب منافع تقسیم ہوں ، تو دیکھ لیا جائے کہ نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو ، اس کو بلا نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کردے۔
یہ تب ہےکہ جب شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا ، اور گھر بیٹھ کر اس کا سالانہ منافع حاصل کرنا ہو۔