میں کینیڈا میں رہتاہوں، اور یہ معلوم کرنا ہےکہ یہاں سودی بینک کے توسط سے مورگیج کےذریعہ مکان کی خریداری جائز ہے؟ میرے پاس فی الوقت کوئی مکان نہیں۔
مور گیج کے ذریعہ حصول مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو یہ بلا شبہ نا جائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی شخص ، ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکا نہ قبضہ بھی کر لیں اور اسکے بعد ادھار معاملہ کے ذریعے قسطوں پر بیچ دیں اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداء ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا، اس میں کل اتنی قسطیں ھونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی ، نیز کسی قسط کی تاخیر پر کوئی چارجز بھی وصول نہ کی جاتی ھوں تواس طرح کا معاملہ کرنا شرعا بھی جائز ہے اور ہر شخص اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے۔
قال الله تعالى : يا ايها الذين امنوا لا تاكلوا الربوااضعافاً مضاعفة واتقوا الله لعلكم تفلحون۔ (سورة آل عمران - ١٣٠)
و قال تعالى : بحق الله الربوا ويربي الصدقات والله لا يحب کل کتاب اسیم (سوره بقره - ۲۷۶)
وفی صحیح مسلم: و عن جابر فى الله تعالى عنه قال لعن رسول الله صلی اللہ علیه وسلم اکل الربوا وموکله وکاتبه وشاہدیه وقال ھم سواء اھ (ج2 ص 27)