آج سے تقریباً 32 سال قبل میں نے ایک دوکان 7,25,000 روپے گڈول (پگڑی) کے عوض کرایہ پر لی، اور رقم مالک دکان کے کارندہ کو ادا کی، کیونکہ جب میں رقم کی ادائیگی کرنے گیا تو مالک دکان نے اپنے کارندہ (منشی) سے مخاطب ہو کر کہا جو اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا، ’’بھائی واجد ! بھائی سلطان سے رقم لے لو‘‘
معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ ادائیگی جو ہوئی وہ مالک دوکان کو ہوئی یا نہیں؟ کیونکہ ہماری سمجھ کے مطابق تو یہ مالک دوکان کیلئے دوکان کے عوض تھی، اور مالک کے کہنے پر ہی ملازم (منشی) نے لی تھی۔ براہِِ کرم حکمِ شرعی کے مطابق مذکور صورت کا فیصلہ فرمائیں کہ یہ ادائیگی کس کو ہوئی مالک کو یا منشی کو ؟ والسلام!
اولاً تو یہ جاننا چاہئیے کہ مروجہ پگڑی کا معاملہ کرنا شرعاً درست نہیں، اس کے بجائے کرایہ کا معاملہ انجام دیا جائے، جو شرعاً بھی جائز ہے،جبکہ صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل نے مالکِ دکان کے کہنے پر ہی اس کے منشی کو مذکور رقم کی ادائیگی کی ہو تو اس صورت میں یہ منشی اس کی طرف سے وکیل بالقبض شمار ہو گا، اور وکیل کو دینا ایسا ہے ،جیسا خود مؤکل کو دینا۔ اس لئے کسی شخص کا یہ کہنا کہ یہ ادائیگی مؤکل کو ادائیگی نہیں کہلائے گی، قطعاً غلط اور بے بنیاد ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: تحقق مما ذكرنا أن بدل الخلو المتعارف الذي يأخذه المؤجر من مستأجره لا يجوز، ولا ينطبق هذا المبلغ المأخوذ على قاعدة من القواعد الشرعية، وليس ذلك إلا رشوة حراما. (ص: 115)-
وفي حاشية ابن عابدين: صرح في البدائع أن: افعل كذا وأذنت لك أن تفعل كذا توكيل اھ (5/ 509)-
وفى الفتاوى الهندية: وأما حكمها فمنه قيام الوكيل مقام الموكل فيما وكله به (إلى قوله) والملك يثبت للموكل خلافه عن الوكيل ابتداء وهو الصحيح اھ (3/ 566،567)-