رہن یا گروی

کیاخود رو گھاس فروخت کرنا جائز ہے؟قرض کے عوض زمین رہن رکھنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
82270
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مالی معاوضات / رہن یا گروی

کیاخود رو گھاس فروخت کرنا جائز ہے؟قرض کے عوض زمین رہن رکھنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ اکرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے خیبر پختون خوا کیی دیہاتی علاقوں میں لوگ زمین پر لگے ہوئے گھاس بیچتے ہیں، کیا یہ گھاس اس طریقے پر فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ حالانکہ یہ گھاس خود بخود اگتی ہے اور مالک کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا سوائے جانوروں کے روکنے کے، لیکن یہ گھاس مالک کی ملکیت میں ہوتی ہے،اس کی زمین ہونے کی وجہ سے اور الناس شرکاء في الثلاث (الحدیث) اس حدیث کا کیا مطلب ہے اور گھاس کی اجرت گھاس سے لینا کیسا ہے؟
(۲) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مثال کے طور پر ایک آدمی نے مثلاً زید نے خالد کو 50000 روپے دیے اور خالد نے اپنی زمین زید کو حوالہ کر دی اور زید اس زمین سے گھاس وغیرہ حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ خالد اس کو یہ 5000 ہزار روپے پورا واپس نہ کر دے ۔ تو زید نے اس زمرے سے جو نفع حاصل کیا ہے وہ بغیر کسی عوضے کی حاصل کیا ہے کیا یہ سود ہے یا نہیں؟ حالانکہ یہ ہمارے علاقوں میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اور کسی کی زمین میں بغیر اجازت گھاس اور لکڑیاں کاٹنا اور اپنے فائدے میں لانا کیسا ہے اور کیا گھاس میں عشر ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ خود رو گھاس اگر چہ مملوکہ زمین میں ہو کاٹنے سے قبل چونکہ اس میں تمام لوگ شریک ہوتے ہیں اس لئے اس کا بیچنا جائز نہیں اور ایسی گھاس میں عشر بھی لازم نہیں، ہاں ایسی گھاس اور لکڑی اگر کسی کی مملوکہ زمین میں ہو اور وہ منع کرے تو اس کی اجازت کے بغیر زمین میں داخل ہونا درست نہیں، بلکہ اس سے کہے کہ مجھے کاٹ کر دیدو ، البتہ گھاس اگر خود اگائی ہو یا کاٹ کر فروخت کرے تو یہ عمل شرعاً بھی جائز ہوگا اور سائل کے علاقہ والوں کو ایسا ہی کرنا چاہیئے۔
(۲) قرض کے عوض زمین گروی رکھنا اگر چہ جائز ہے، مگر قرض خواہ کا اس مرہونہ زمین سے انتفاع حاصل کرنا جائز نہیں، یہ شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدرالمختار: (یجب العشر)الیٰ قولہ (الاقی)۔۔۔نحو حطب وقصب وحشیش اھ(2/327)۔
وفی الشامیۃ: (قوله لحديث: الناس شركاء في ثلاث) أخرجه الطبراني بلفظ " المسلمون شركاء في ثلاث " إلخ، وكذا أخرجه ابن ماجه وفي آخره " ثمنه حرام " أي ثمن كل واحد منها(الیٰ قولہ) وفي الكلإ الاحتشاش، ولو في أرض مملوكة غير أن لصاحب الأرض المنع من دخوله اھ(5/67)۔
وفی الدر: وهذا إذا نبت بنفسه وإن أنبته بسقي وتربية ملكه وجاز بيعه اھ(5/67)۔
وفی الشامیۃ: (قوله فكره للمرتهن إلخ) وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي، وكان من كبار علماء سمرقند إنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم.قلت: وهذا مخالف لعامة المعتبرات من أنه يحل بالإذن إلا أن يحمل على الديانة وما في المعتبرات على الحكم ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به اھـ(5/166)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 82270کی تصدیق کریں
0     385
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • گروری (رہن) کے طورپر دی ہوئی زمین سے نفع حاصل کرنا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • گروی (رہن)کے طورپر رکھے ہوئے مکان سے فائدہ اٹھانا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • کمپنیوں سے ادھار خریداری کیلۓ ،مخصوص ادائیگی کے ساتھ ،بینک سے ضمانتی سرٹیفیکیٹ لینا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • غیر مسلم ممالک میں مورگیج پر گھر لینا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • مورگیج پر گھر خریدنےکا حکم

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • گروی رکھے ہوئے گھر کو فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • ’’گروی‘‘ میں رکھے ہوئے گھر سے ’’انکم‘‘ حاصل کرنا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • مرہونہ زمین سے معروف یا مشروط طور پر نفع حاصل کرنا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • پگڑی پر لی ہوئی دکان کا حکم

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • راہن کی اجازت کے بغیر مرہونہ چیز سے قرض دار کا نفع اٹھانا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • قرض کے بدلے سونا گروی رکھ کر مقررہ مدت تک واپس نہ کرسکنے کی صور ت میں مرتہن کا اس مرہونہ چیز کو بیچ کر اپنا قر ض لینا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • کیا گروی رکھی ہوئی زمین سے نفع اٹھانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   انگلش   رہن یا گروی 0
  • کیاخود رو گھاس فروخت کرنا جائز ہے؟قرض کے عوض زمین رہن رکھنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • گروی رکھی ہوئی چیز سے انتفاع کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   رہن یا گروی 0
Related Topics متعلقه موضوعات