رہن یا گروی

راہن کی اجازت کے بغیر مرہونہ چیز سے قرض دار کا نفع اٹھانا

فتوی نمبر :
80314
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مالی معاوضات / رہن یا گروی

راہن کی اجازت کے بغیر مرہونہ چیز سے قرض دار کا نفع اٹھانا

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے کسی سے قرضہ لیا ،اور اس قرض کے عوض اپنی مملوکہ زمین رہن رکھ دی ،اور یہ شخص راہن کی اجازت کے بغیر اس کو استعمال کرتا ہے ،اور جو منافع ملتا ہے، اس سے انتہائی کم مدیون کو دیتا ہے،آیا اس کا اس طرح تصرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ راہن کی طرف سے اس کی اجازت بھی نہیں ہے۔ براہ کرم جو بھی حکم شرعی ہو اس کو واضح کر دیا جائے، تاکہ اس کے مطابق عمل کیا جاسکے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکورہ صورت بھی ’’کل قرض جر منفعة ‘‘ کے تحت آنے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور سود کے زمرے میں آتی ہے، اس لیے دائن(قرض خواہ)پر لازم ہے کہ وہ اس ارض مرہونہ (گروی رکھی ہوئی زمین)کے منتفع ہونے سے احتراز کرے،اور اب تک جو نفع حاصل کر چکا ہے، وہ بھی اپنے مدیون(مقروض )کو واپس لوٹائے ،اور آئندہ کیلئے ایسے معاملات بجا لانے سے احتراز کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

في شرح معاني الآثار الطحاوي: عن الشعبي قال : لا ينتفع من الرهن بشيء اھ (4/ 100)۔
وفي سنن أبى داود: عن أبى هريرة عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « لبن الدر يحلب بنفقته إذا كان مرهونا والظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا وعلى الذى يركب ويحلب النفقة ». قال أبو داود وهو عندنا صحيح اھ(3/ 310)۔
وفي بذل المجهود في حل سنن أبي داود: تحت قوله: وقال الشافعي وأبو حنيفة ومالك وجمهور العلماء: لا ينتفع المرتهن من الرهن بشيء، بل الفوائد للراهن والمؤن عليه اھ (11/ 254)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وقيل لا يحل للمرتهن) قال في المنح: وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا أمر عظيم اھ (6/ 482)۔
وفي المبسوط لشمس الدين السرسخي: وكذلك المرتهن لا يزرعها لان الملك فيها لغيره فلا يزرعها ولا يؤاجرها بغير اذنه فان فعل ذلك ضمن ما نقص الارض وتصدق بالاجر ان أجر و يفصل الزرع أما ضمان النقصان فلانه بالزراعة متلف جزأ منها وأما التصدق فلانه فصل حصل له من ملك الغير بسبب حرام شرعا اھ (15/ 324)۔ والله أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حبیب الرحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80314کی تصدیق کریں
0     641
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • گروری (رہن) کے طورپر دی ہوئی زمین سے نفع حاصل کرنا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • گروی (رہن)کے طورپر رکھے ہوئے مکان سے فائدہ اٹھانا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • کمپنیوں سے ادھار خریداری کیلۓ ،مخصوص ادائیگی کے ساتھ ،بینک سے ضمانتی سرٹیفیکیٹ لینا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • غیر مسلم ممالک میں مورگیج پر گھر لینا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • مورگیج پر گھر خریدنےکا حکم

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • گروی رکھے ہوئے گھر کو فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • ’’گروی‘‘ میں رکھے ہوئے گھر سے ’’انکم‘‘ حاصل کرنا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • مرہونہ زمین سے معروف یا مشروط طور پر نفع حاصل کرنا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • پگڑی پر لی ہوئی دکان کا حکم

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • راہن کی اجازت کے بغیر مرہونہ چیز سے قرض دار کا نفع اٹھانا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • قرض کے بدلے سونا گروی رکھ کر مقررہ مدت تک واپس نہ کرسکنے کی صور ت میں مرتہن کا اس مرہونہ چیز کو بیچ کر اپنا قر ض لینا

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 1
  • کیا گروی رکھی ہوئی زمین سے نفع اٹھانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   انگلش   رہن یا گروی 0
  • کیاخود رو گھاس فروخت کرنا جائز ہے؟قرض کے عوض زمین رہن رکھنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   رہن یا گروی 0
  • گروی رکھی ہوئی چیز سے انتفاع کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   رہن یا گروی 0
Related Topics متعلقه موضوعات