کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے کسی سے قرضہ لیا ،اور اس قرض کے عوض اپنی مملوکہ زمین رہن رکھ دی ،اور یہ شخص راہن کی اجازت کے بغیر اس کو استعمال کرتا ہے ،اور جو منافع ملتا ہے، اس سے انتہائی کم مدیون کو دیتا ہے،آیا اس کا اس طرح تصرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ راہن کی طرف سے اس کی اجازت بھی نہیں ہے۔ براہ کرم جو بھی حکم شرعی ہو اس کو واضح کر دیا جائے، تاکہ اس کے مطابق عمل کیا جاسکے۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ صورت بھی ’’کل قرض جر منفعة ‘‘ کے تحت آنے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور سود کے زمرے میں آتی ہے، اس لیے دائن(قرض خواہ)پر لازم ہے کہ وہ اس ارض مرہونہ (گروی رکھی ہوئی زمین)کے منتفع ہونے سے احتراز کرے،اور اب تک جو نفع حاصل کر چکا ہے، وہ بھی اپنے مدیون(مقروض )کو واپس لوٹائے ،اور آئندہ کیلئے ایسے معاملات بجا لانے سے احتراز کرے۔
في شرح معاني الآثار الطحاوي: عن الشعبي قال : لا ينتفع من الرهن بشيء اھ (4/ 100)۔
وفي سنن أبى داود: عن أبى هريرة عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « لبن الدر يحلب بنفقته إذا كان مرهونا والظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا وعلى الذى يركب ويحلب النفقة ». قال أبو داود وهو عندنا صحيح اھ(3/ 310)۔
وفي بذل المجهود في حل سنن أبي داود: تحت قوله: وقال الشافعي وأبو حنيفة ومالك وجمهور العلماء: لا ينتفع المرتهن من الرهن بشيء، بل الفوائد للراهن والمؤن عليه اھ (11/ 254)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وقيل لا يحل للمرتهن) قال في المنح: وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا أمر عظيم اھ (6/ 482)۔
وفي المبسوط لشمس الدين السرسخي: وكذلك المرتهن لا يزرعها لان الملك فيها لغيره فلا يزرعها ولا يؤاجرها بغير اذنه فان فعل ذلك ضمن ما نقص الارض وتصدق بالاجر ان أجر و يفصل الزرع أما ضمان النقصان فلانه بالزراعة متلف جزأ منها وأما التصدق فلانه فصل حصل له من ملك الغير بسبب حرام شرعا اھ (15/ 324)۔ والله أعلم بالصواب!