1:کیا فرماتے ہیں علماءِ دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے دوسرے سے مثلاً چالیس ہزار روپے قرض لیا، اور اس کے مقابلہ میں مقرض کو قرض دار نے مثلاًایک زمین دیدی ،اور یہ بولا کہ جب تک قرض ادا نہ کرے ، اُس وقت تک یہ زمین آپ کے تصرف میں رہے گی، آیا تو وقت معین کر لینا ہے کہ ایک سال کے اندر قرض ادا کردوں گا ،اور زمین بھی واپس لے لونگا، اور اس میں قرضہ کےحساب سے زمین میں زیادتی ہوتی رہتی ہے۔
اب دریافت طلب یہ ہے کہ یہ عقدِ رہن میں داخل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اور اس میں جواز کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟ براہِ کرم مفصل اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
۲: ما قولكم حفظكم الله في هذه المسئلة کہ ایک آدمی ہے جو اپنی زمین دوسرے آدمی کو اس شرط کے ساتھ دیدتا ہے کہ وہ دوسرا آدمی اس میں پورا سال کاشت کرے اور دوسرا آدمی یہ شرط بھی کبھی کبھار لگاتا ہے کہ صاحبِ زمین کو بیج کا آدھا یا پانی کا آدھا خرچہ بھی دینا پڑیگا، اور یہ بھی شرط ٹھہرتا ہے کہ فصل کو کیڑے وغیرہ سے بچانے کیلئے دوائی کا آدھے پیسے بھی دینے پڑیں گے، اور فصل ان دونوں کے درمیان آدھی آدھی ہوگی، مگر عمل صرف دوسراآدمی کریگا ، اور فصل کی زوائد چیز کبھی صاحب زمین نہیں لیتا، بلکہ دوسرےآدمی کو دیتا ہے ؟ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ عقدِ مضاربہ میں شرعاً داخل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ مزارعہ میں شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
1۔ مرہو نہ زمین ہو یا کوئی اور چیز , اس سے معروف یا مشروط طور پر نفع حاصل کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا مذکور طریقہ پر زمین سے انتفاع حاصل کرنے سے احتراز لازم ہے ۔
۲۔ یہ صورت مضاربہ کی نہیں، بلکہ مزارعتِ فاسدہ کی ہے، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کسی نے کرلی ہو تو بیچ میں آدھوں آدھ شرکت کی وجہ سے حاصل ہونے والی فصل بھی اسی انداز سے مشترک ہوگی۔
کمافي الدر المختار: (دفع) رجل (أرضه إلى آخر على أن يزرعها بنفسه وبقره والبذر بينهما نصفان والخارج بينهما كذلك، فعملا على هذا فالمزارعة فاسدة ويكون الخارج بينهما نصفين اھ (6/ 281)-
و في حاشية ابن عابدين: وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا وهذا أمر عظيم (إلی قوله) قلت والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع ولولاه لما أعطاه الدارهم وهذا بمنزلة الشرط لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعني المنع والله تعالى أعلم اهـ (6/ 482)-