کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں ، کہ میں مسمّٰی عثمان زمان بینک سے "بینک گارنٹی " لینا چاہتا ہوں ، بینک گارنٹی لینے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ میں ایک سیمنٹ فیکٹری سے سیمنٹ کا کاروبار کررہا ہوں ، اب بینک ہمیں ایک سرٹیفکیٹ فیکٹری کے نام بناکر دیتا ہے کہ اس سرٹیفکیٹ والے کو اتنے لاکھ تک کا مال دے دو ، اگر یہ پارٹی تمہاری ادائیگی نہ کرسکی تو ہم تمہاری ادائیگی کریں گے اور اس کے عوض میں بینک جتنا قرض لینے کا سرٹیفکیٹ بناکر دیتا ہے ، اتنی مالیت کا گھر وغیرہ اپنے پاس گروی رکھ لیتا ہے ، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اگر سرٹیفکیٹ بیس لاکھ کا بناکر دیا ہے ، تو وہ مکان جس کی مالیت وہ خود اپنے آدمیوں سے لگواتے ہیں اگر مکان کی مالیت بھی بیس لاکھ ہے تو وہ اس کا چالیس فیصد نقد کی شکل میں لے لیتے ہیں اور مکان کے کاغذات بھی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور اس کے عوض میں ہم کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ہم کو (Pay Order) بنوانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور بینک میں جانے سے بچ جاتے ہیں اور کمپنی میں ایک مقام حاصل ہوجاتا ہے ، لیکن بینک اس ضمانت دینے کے عوض ہم سے ہر سال ، ہر لاکھ پر چار سو روپے لیتا ہے جبکہ بینک سے یہ ضمانت کا معاہدہ ایک سال تک کا ہوتا ہے ، اس کے بعد ازسرِ نو معاہدہ کرنا ہوتا ہے ، اس میں تینوں فریقین یعنی کمپنی، بینک اور ڈیلر کو اختیار ہوتا ہے کہ آئندہ معاہدہ کریں یا نہ کریں ، اب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ یہ جو بینک ہم سے ہر سال ، ہر لاکھ پرچار سو روپے لیتا ہے آیا یہ سود تو نہیں؟ براہِ کرم جو بھی حکمِ شرعی ہو اس کو واضح کردیا جائے تاکہ اس کے مطابق عمل کیا جاسکے۔ بینوا توجروا
شرعاً کسی دوسرے کی طرف سے کفالت محض تبرع اور احسان پر مبنی ہے اور اس پر کسی قسم کا معاوضہ لینا جائز نہیں لہٰذا اس سے احتراز و اجتناب لازم ہے۔
البتہ بینک یا کسی دوسرے فرد اور ادارے نے ، اس سلسلہ اور ضرورت کا حساب کتاب رکھنے کیلئے باقاعدہ دفتر ، ملازم اور دیگر لوازمات قائم کررکھے ہوں اور وہ ادارہ ضمانت و کفالت پر معاوضہ لینے کے بجائے ، اپنے دفتری اخراجات لیتا ہو اور یہ اخراجات واقعۃً اجرتِ مثل کے بھی برابر ہوں تو ان کے لینے کی گنجائش ہے ورنہ ان سے بھی احتراز چاہئے۔
الکفالۃ عقد تبرع، و طاعۃ یثاب علیہا الکفیل: لانہا تعاون علی الخیر۔ (الفقۃ الاسلامی: ج۵، ص۱۶۱)۔
و لا یستحق المشترک الأجر حتی یعمل۔ (شامی: ج۶، ص۶۴)۔