السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! میں یو کے میں رہتا ہوں اور میں ایک گھر لینا چاہتا ہوں ، اور یہاں پر گھر لینا صرف ممکن ہے مورگیج پر ، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کیا اسلام میں میرے لئے یو کے میں مورگیج پر گھر لینا جائز ہے یا نا جائز ؟براہِ کرم رہنمائی فرمائے۔
مورگیج کے ذریعہ ، حصولِ مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو یہ بلا شبہ نا جائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کر لے اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعہ قسطوں پر یہ مکان سائل پر فروخت کر دے اور اسی طرح قسطوں کی معاملے میں ابتداء ہی سے یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اورقسطوں کا معاملہ ہوگا ، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی اور کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر کوئی چار جز بھی وصول نہ کئے جائیگے اور جو سود کی رقم ادارہ لینا چاہتا ہے اس کو قیمت کا حصہ شمار کیا جائے تو اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز ہوگا اور اس طرح شرعی شرائط کو ملحوظ رکھ کر معاملہ کرنے سے ہر شخص اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے ۔
قال اللہ تعالی: وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الْرِبٰوا الآیۃ (آیتـ275 سورۃ البقرۃ)
و فی الدر المختار: ( و صح بثمن حال) و ھو الأصل (ومؤجل إلی معلوم) لئلا یفضی إلی النزاع ولو باع مؤجلا صرف شھر بہ یفتی الخ اھ
و فی رد المحتار: تحت ( قولہ لئلا یفضی إلی النزاع) تعلیل الاشتراط کو الأجل معلوم (إلی قولہ) و منھا اشتراط أن یعطیہ الثمن علی التفاریق أو کل اسبوع البعض، فإن لم یشترط فی البیع بل ذکر بعدہ لم یفسد ، و کان لہ أخذ الکل جملۃ و تمامہ فی البحر الخ (کتاب البیوع مطلب فی التأجیل الخ ج 4 صـ 531 ط: سعید)واللہ اعلم