قرض کی صورت میں گروی رکھا گیا پلاٹ بیچا جا سکتا ہے ؟ کیا سال انتظار کے باوجود مقروض کے پاس قرض اتارنے کی رقم موجود نہیں ہے ، جبکہ قرض دینے والا خود شدید مالی تنگی میں ہے ، تو کیا حکم ہے دین میں ؟ رہنمائی کریں ۔
مقروض شخص کے پاس اگر فوری طور پر قرض کی ادائیگی کا انتظام نہ ہو تو بہتر اور افضل یہ ہےکہ مقروض کے پاس قرض کا انتظام ہوجانے تک قرض خواہ کی طرف سے اسے مہلت دی جائے ، لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے قرض خواہ کیلئے مقروض کو مہلت نہ دی جا سکتی ہو تو ایسی صورت میں مقروض کی طرف سے بطورِرہن رکھا گیا پلاٹ بذریعۂ عدالت یا مقروض کی اجازت سے فروخت کر کےاپنے قرض کے بقدر رقم وصول کی جاسکتی ہے ، اور اگر پلاٹ کی قیمت قرض سے زیادہ ہو تو اضافی رقم مقروض کو لوٹانا لازم اور ضروری ہوگا ۔
جبکہ مقروض کی اجازت و رضا مندی یا عدالتی کاروائی کے بغیر قرض خواہ کیلئے اپنے طور پر رہن میں رکھا گیا پلاٹ فروخت کرنا جائز نہیں ، جس سے اتناب لازم ہے ۔
کما البحر الرائق : قال - رحمه الله – (و له أن يطالب الراهن بدينه و يحبسه به) أي للمرتهن أن يطالب الراهن بدينه و بحبسه به ، و إن كان بعد الرهن في يده ؛ لأن حقه باق ، و الرهن لزيادة الصيانة فلا تمتنع المطالبة ، و كذا لا يمتنع الحبس به ؛ لأنه جزاء الظلم و هو المماطلة على ما بيناه في القضاء مفصلا ، و قال الكرخي في مختصره و للمرتهن مطالبة الراهن بدينه إذا كان مالا و لا يمنعه الارتهان به من ذلك و لا كون الرهن في يده ، و كذلك إذا كان مؤجلا و حل ، فإنه لا يمنع حبسه كذا في العيني على الهداية ۔ اھ (8/270)۔
و فی الهداية : قال : " و للمرتهن أن يطالب الراهن بدينه و يحبسه به "؛ لأن حقه باق بعد الرهن و الرهن لزيادة الصيانة فلا تمتنع به المطالبة ، و الحبس جزاء الظلم ، فإذا ظهر مطله عند القاضي يحبسه كما بيناه على التفصيل فيما تقدم " و إذا طلب المرتهن دينه يؤمر بإحضار الرهن "؛ لأن قبض الرهن قبض استيفاء فلا يجوز أن يقبض ماله مع قيام يد الاستيفاء ؛ لأنه يتكرر الاستيفاء على اعتبار الهلاك في يد المرتهن و هو محتمل ۔ اھ(4/414)۔
و فیھا ایضاً : " و ليس له أن يبيع إلا بتسليط من الراهن ، و ليس له أن يؤاجر و يعير "؛ لأنه ليس له ولاية الانتفاع بنفسه فلا يملك تسليط غيره عليه ، فإن فعل كان متعديا ، و لا يبطل عقد الرهن بالتعدي .(4/415)۔