کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اکرم اپنا سونا پونے تین تولہ اپنے دوست زید کے پاس گروی رکھوا کر مبلغ ستر ہزار روپے لے رہا ہے، مدت قرض ایک ماہ کی ہے، اگر ایک ماہ بعد مذکورہ ستر ہزار روپے واپس نہیں کر سکا ،تو زید مذکور سونا فروخت کر کے اپنی رقم سے زائد پیسے اکرم کو واپس کر دے گا ، اور اگر رقم سونے کی ستر ہزار سے کم کی مقرر ہوتی ،تو بقایا پیسے اکرم زید کو دے گا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا یہ طریقہ شرعی طور پر صحیح ہے یا غلط؟ ورنہ اصل شرعی صورت تعلیم فرما کر شکر گزاری کا موقع بخش دیں۔
سونا گروی رکھوا کر قرض لینا شرعاً درست ہے، اب اگر مقررہ وقت پر مذکور قرض واپس لوٹانے کا انتظام نہ ہو سکے ،تو مرتہن مسمی زید اس سونے کو فروخت کر کے اپنا قرضہ وصول کر سکتا ہے، جبکہ بقیہ اور اضافی رقم راہن کو واپس کرنا لازم ہے ۔
کمافی الدر المختار: (و) صح (رهن الحجرين والمكيل والموزون، فإن رهن) المذكور بخلاف جنسه هلك بقيمته وهو ظاهر، وإن (بجنسه وهلك، هلك بمثله) اھ (6/ 496)۔
وفي الهداية شرح البداية: وليس له أن يبيع إلا بتسليط من الراهن اھ (4/ 130)-