پاکستان میں کمیٹی یا بی ۔سی(B.C) ڈالنے کا رواج ہے، اسی سروس کو ڈیجٹلائز کرکے "اوران" نامی ایپ نے آنلائن کمیٹی ڈالنے کی سروس شروع کی ہے ،جس میں جمع کرنے سے لیکر ادائیگی تک سب کچھ انہی کے ذمہ ہوتا ہے ,لیکن وہ ابتدائی ادائیگیوں میں ایک فیس چارج کرتے ہیں جو سروس فیس کہلاتی ہے ،مثال کے طور پراگردس افراد ہر مہینے دس ہزار بی سی ڈالتے ہوں اور مجھے پہلے مہینے مل رہی ہو ,تو ہر مہینے دس ہزار کے ساتھ 1500 بھی اداکروں گا لیکن مجھے ایک لاکھ ملے گی کیا یہ سود ہے؟
سوال میں کمیٹی کی جو صورت ذکر کی گئی ہے جس میں کمیٹی شرکاء میں سے سب سے پہلے رقم وصول کرنے والا بعد میں کمیٹی کی رقم کے ساتھ اضافی رقم جمع کرنے کا پابند ہوتا ہے ،یہ صورت ناجائز اور حرام ہے جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی تنزیل العزیز : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ ذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ 0 فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ إِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَ لَا تُظْلَمُونَ۔ (سورۃ البقرة، آیت : ٢٧٨- ٢٧٩)۔
و فی صحیح مسلم : عن جَابِرٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا ، وَ مُؤْكِلَهُ ، وَ كَاتِبَهُ ، وَ شَاهِدَيْهِ . وَ قَالَ : " هُمْ سَوَاءٌ "۔ (رقم : ١٥٩٨)۔
و فی رد المحتار : قولہ کل قرض جر نفعاً فھو ربا ای اذا کان مشروطاً۔(166/5)-