اسلام علیکم !کیا کہتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ ایک بںدہ اٹلی جانے کے ارادہ سے لیبیا میں 6 ماہ سے رکا ہوا ہے ، اور اٹلی جانے کا وقت مقرر نہی ہے، تو وہ قصر نماز پڑہے گا یا مکمل ؟جزاک اللہ
شخص مذکور نے اگر اپنے ملک سے اٹلی جانے کے ارادہ سے نکلا ہو ا اور درمیان میں لیبیا میں پندرہ دن سے کم کی نیت سے ٹھہرا ہو اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے چھ ماہ کا عرصہ گزرچکا ہو تب بھی وہ شرعاً مسافر شمار ہوگا اور اپنی انفرادی چار رکعت والی نمازوں میں قصر کرے گا۔
کما فی الھدایۃ:اذا فارق المسافر بیوت المصر صلی رکعتین ولا یزال علی حکم السفر حتیٰ ینوی الاقامۃ فی بلدۃ او قریۃ خمسۃ عشر یوماً اواکثر وان نوی اقل من قصر اھ(1/172)
وفی فقہ الحنفی: ومن خرج مسافراً صلٰی رکعتن اذا فارق بیوت المصر ولا یزال علٰی حکم السفر حتیٰ ینوی الاقامۃ فی بلدۃ خمسۃ عشر یوماً فصاعداً فیلزمہ الاتمام وان نوی الاقامۃ اقل من ذٰلک لم یتم۔۔۔ومن دخل بلداً ولم ینو ان یقیم فیہ خمسۃ عشر یوماً وانما یقول غداً اخرج اوبعد غداً اخرج حتیٰ بقیی علی ذٰلک سنین صلیٰ رکعتین اھ(1/84)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4