کیا لڑکی کو قرآن کسی مولانا سے پڑھوانا جائز ہے ؟
واضح ہوکہ لڑکی کیلئے بہتر تو یہی ہےکہ کسی ایسی خاتون سے قرآن پڑھے جو تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا جانتی ہو ،جبکہ ایسی خواتین ہمارے ملک میں بہت سی موجود ہیں،البتہ اگر کسی جگہ تجوید کے ساتھ قرآن پڑھانے والی کوئی خاتون موجود نہ ہو تو کسی بالغ یا قریب البلوغ لڑکی کا کسی نامحرم مرد استاد سے اتنا قرآن پڑھنے کی گنجائش ہے کہ جس سے نماز ادا ہوجاتی ہے ،بشرطیکہ استاد اور لڑکی کے درمیان دیوار یا پردہ وغیرہ حائل ہو اور کسی قسم کے اختلاط کا اندیشہ نہ ہو ،ورنہ جائز نہ ہوگا۔
الضرورۃ تتقدر بقدر الضروۃ