ایک رشتہ دار امریکہ میں بینک کی جوب کرتی ہیں، ان کا جوب کادونٹر پر صرف پیسے گننے(counting money) کا ہیں، ان کی اس کمائی سے زکوٰۃ اور قربانی ہو جائے گی؟ مزید برآں اس کمائی کو استعمال میں لانا کیسا ہے؟ اور ایسی کمائی کی عیدی وغیرہ کوئی دوسرا استعمال کر سکتا ہے؟
(1) بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی لین دین سے ہے جیسے منیجر ، کیشئر ، کلرک وغیرہ کی ملازمت ایسی ملازمت با کل ناجائز اور حرام ہے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ بھی حرام ہے۔ بینک کا مذکور ملازم اگر اسی سے زکوۃ ادا کرے یا قربانی کرے تو اس کی زکوۃ اور قربانی شرعاً جائز نہیں ہوگی، بلکہ اس کی ساری رقم واجب التصدق ہے۔ البتہ اگر ایسا شخص کہیں سے قرض لیکر گائے کی قربانی میں حصہ دار ہو جائے یا اپنا جانور خرید کر کے ذبح کرے تو محض بینک کا ملازم ہونے کی وجہ سے قربانی کے جواز پر کوئی ان نہیں پڑہے گا اور اس صورت میں دیگر شرکاء کی قربانی بھی جائز اور درست ہو جائے گی۔
(۲) ایسی کمائی کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، بلکہ اس پر واجب ہے کہ اس حرام مال کو اس کے اصل مالک یا اس کے ورثاء کو واپس کر دے۔ اور اگر اصل مالک یا اس کے ورثاء کا کچھ پتہ نہ چلے تو اس پر واجب ہے کہ اس مال کو اس کے اصل مالک کی طرف سے فقراء و مساکین پر صدقہ کر دے بغیر نیت ثواب کے۔ جبکہ ایسے شخص سے ایسی رقم یا اس سے خریدی ہوئی کسی چیز کا ہدیہ لینا اور اُسے اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔
كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
الهداية شرح البداية: رجلا يريد اللحم لم يجز عن واحد منهم ووجهه أن البقرة تجوز عن سبعة لكن من شرطه أن يكون قصد الكل القربة وإن اختلفت جهاتها كالأضحية اھ (4/ 75)
ففي الفتاوى الهندية: والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله اھ (5/ 349)
میزان بینک میں ملازمت اور کوئی دوسری ملازمت مل رہی ہو تو کونسی اختیار کی جائے ؟
یونیکوڈ بینک کی ملازمت 0