کسی حلال جانور کا حرام جانور سے دودھ پینا کیسا ہے؟
یعنی اگر بکری کا بچہ کسی کُتیا کا دودھ پیتا رہا تو کیا اُس کی قربانی جائز ہے؟ یعنی کیا وہ بکری کا بچہ بےعیب ہے؟
قربانی نہیں ہوسکتی تو کیا ویسے عام دنوں میں اُس کا گوشت کیسا ہے
جزاک اللہ خیرا
جی ہاں ! اگر بکری کا بچہ کسی کتیے کا دودھ پیتا رہا تو اس کی وجہ سے اس کی قربانی نا جائز نہ ہوگی اور عام دنوں میں بھی اس بکری کے بچہ کو ذبح کرکے اس کا گوشت کھانا درست ہے۔ البتہ ذبح کرنے سےکچھ دن قبل اس بکری کے بچہ کو بند کرکے صاف ستری گھاس وغیرہ کھلائی جائے، یہاں تک کہ اس کے گوشت سے بدبو زائل ہوجائے ، اس کے بعد اس بکری کے بچہ کی قربانی بھی درست ہوگی اور اس کا گوشت بھی حلال ہو گا۔
کما فی الرد :(قوله ولا الجلالة إلخ) أي قبل الحبس. قال في الخانية: فإن كانت إبلا تمسك أربعين يوما حتى يطيب لحمها والبقر عشرين وللغنم عشرة (قوله ولا تأكل غيرها) أفاد أنها إذا كانت تخلط تجزي ط. [تتمة](6/3255)۔
و فی الہندیۃ :الجدي إذا كان يربى بلبن الأتان، والخنزير إن اعتلف أياما فلا بأس لأنه بمنزلة الجلالة والجلالة إذا حبست أياما فعلفت لا بأس بها فكذا هذا، كذا في الفتاوى الكبرى والله أعلم اھ(5/290)