جناب مفتی صاحب
ٹیلیگرام ایپ ہے اس کو ہر دو گھنٹے بعد کھولنا ہوتا ہے اور اس پر ایک ایڈshareکرناہوتاہے جس کے آپ کو 2 ڈالر ملیں گے اور جب ڈالر 1000 تک پہنچ جائے تو پھر آپ نکال سکتے ہیں. کیا یہ جائز ہے ؟
مذکور ٹیلی گرام ایپ پر جو ایڈز شیئر کرکے پیسے کمائے جاتے ہیں،اگر یہ ایڈز وغیرہ غیر شرعی اور ناجائز امور کی نمائندگی نہ کرتے ہوں اور بیچی جانی والی اشیاء بھی جائز اور مباح ہو ں تو اس ویب سائٹ پر اس طرح ایڈز کو شیئر کرکے پیسے کمانے کی گنجائش ہے ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص :وقَوْله تَعَالَى: {وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْأِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} نَهْيٌ عَنْ مُعَاوَنَةِ غَيْرِنَا عَلَى مَعَاصِي اللَّهِ تَعَالَى.اھ(2/381)۔
و فی الہندیۃ :وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا.اھ(4/411)