اسلام علیکم جناب ہم نے قربانی کے جانور میں آٹھ حصے رکھے تھے، قربانی کے بعد ہمیں میں پتہ چلا کے سات سے زیادہ حصے ممکن نہیں ہے ،ہماری رہنمائی فرمائیے گا۔
سائل اور اس کے ساتھ قربانی میں شریک دیگر افراد نے اگر بڑے جانور میں آٹھ حصے رکھے تھے تو ایسی صورت میں چونکہ ہر شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہوجاتا ہے ،اس لئے شرعاًتمام شرکاء کی قربانی ادا نہیں ہوئی ،چنانچہ اب شرکاء میں سے ہر ایک کے ذمہ اپنی واجب قربانی کے بدلے ایک متوسط بکرے کی قیمت دینا لازم ہوگا۔
کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: '' ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء.۔۔ والصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة»۔ وعن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة،(5/ 70)۔
وفی البحر: ولا یجوزعن ثمانیۃلعدم النقل فیہ وکذا اذا کان نصیب احدھم اقل من سبع بدنۃ لایجوز عن الکل لان بعضہ اذا خرج عن کونہ قربۃ خرج کلہ۔(174/8)۔
وفی الھندیۃ :واذا کان الشرکاءفی البدنۃاو البقرۃثمانیۃلم یجزھم لان نصیب احدھم اقل من سبع۔(5/305)۔