بسم اللہ الرحمن الرحیم
گرامی قدر حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جیساکہ آپ کے علم میں ہے کہ کچھ سالوں سے مدارس ,ادارے یا ملی تنظیمیں اجتماعی قربانی کا نظم کرتی ہیں، سیکڑوں حصص کی رقم جمع کر لیتے ہیں، اب حصوں کی تعداد کے اعتبار سے جانوروں کی خریداری کے بعد اگر کوئی جانور مرگیا ، تو یہ مردہ جانور کن کن لوگوں کی طرف سے سمجھا جائے گا ، اور اسکی قیمت کس کے ذمے ہوگی؟
اسی طرح اگر قربانی سے پہلے کوئی جانور عیب دار ہو جائے اور قربانی کے لائق نہ رہے، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا ؟
بینوا و توجروا.
واضح ہو کہ اجتماعی قربانی کرتے وقت عموماً دو صورتیں پیش آتی ہیں۔
1 : قربانی کا جانور خریدنے کے بعد شرکاء کے نام (نمبرات وغیرہ کے ذریعے ) متعین کردیا جاتا ہے ۔
2 : قربانی کرتے وقت جانور کو شرکاء کے نام پر نامزد کیا جاتا ہے ۔
بہر دوصورت جانور شرکاء کے نام پر متعین کرنے سے قبل جانور ادا رے کی ملکیت شمار ہوتے ہیں ، اس صورت میں اگر جانور وغیرہ ہلاک یا عیب دار ہوگیا تو ایسی صورت میں یہ ادارے کے ذمہ داران کی طرف سے ہو گا ،لیکن اگر جانور شرکاء کے نام پر متعین کردیا گیا تو ایسی صورت میں اس پر وکالت کے احکام جاری ہوں گے اور ادارے والوں کی حیثیت وکیل اور امین کی ہوگی اور اگر جانور وکیل کی تعدی اور غفلت کی وجہ سے ہلاک ہوجائے تو ضمان ادارے والوں پر ہوگا ،لیکن اگر وکیل کی تعدی اور غفلت کی وجہ سے ہلاک نہ ہو تو یہ نقصان شرکاء(جن کے نام پر متعین کیا گیا ہے) کا شمار ہوگا۔
کما فی الدر المختار :و إن بشراء شیٴ بغیر عینہ فالشراء للوکیل إلا إذا نواہ للموٴکل وقت الشراء أو شراہ بمالہ أي بمال الموٴکل الخ
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ فالشراء للوکیل الخ) و حاصلھا انہ إن أضاف العقد إلی مال أحدھما کان المشتري لہ و إن أضافہ إلی مال مطلق فإن نواہ للآمر فھو لہ و إن نواہ لنفسہ فھو لہ (الیٰ قولہ) و بہ علم أن محل النیة للموٴکل فیما إذا أضافہ إلی مال مطلق سواء نقدہ من مالہ أو من مال المؤکل (5/518)-
و فی البحر الرائق :(قوله و إن كان بغير عينه فالشراء للوكيل إلا أن ينوي للموكل أو يشتريه بماله) هكذا أطلقه المؤلف و فصله في الهداية فقال : هذه المسألة على وجوه إن أضاف العقد إلى دراهم الآمر كان للآمر و هو المراد عندي بقوله أو يشتريه بمال الموكل دون النقد من ماله لأن فيه تفصيلا و خلافا و هذا بالإجماع و هو مطلق و إن أضافه إلى دراهم نفسه كان لنفسه حملا لحاله على ما يحل له شرعا أو يفعله عادة إذ الشراء لنفسه بإضافة العقد إلى دراهم غيره مستنكر شرعا و عرفا و إن أضافه إلى دراهم مطلقة فإن نواها للآمر فهو للآمر و إن نواها لنفسه فلنفسه لأن له أن يعمل لنفسه و يعمل للآمر في هذا التوكيل۔(7/160)-
و فی الھندیۃ : کتاب الوکالۃ : أما معناها شرعا فهو إقامة الإنسان غيره مقام نفسه في تصرف معلوم حتى إن لم يكن معلوما يثبت به أدنى تصرفات الوكيل و هو الحفظ ، و اما صفتھا (الیٰ قولہ) و منہ انہ امین فیما فی یدہ کالمودع فیضمن بما یضمن بہ المودع و یبرء بہ اھ (3/567)-
و فی شرح المجلۃ : اذا ھلکت الودیعۃ او نقصت قیمتھا بتعدی المستودع او بتقصیرہ لزمہ الزمان مثلاً اذا تصرف المستودع نقود الودیعۃ فی امور نفسہ او استھلکھا ضمنھا اھ (3/258)-