میں نے اپنے بچوں کو اکیلے پالا ،طلاق سے پہلے اور بعد میں کسی بہن بھائی کی مالی امداد نہیں تھی ،تب تک میں گھر کی سربراہ مانی گئی اب بیٹا بڑا ہو گیا ہے اور کماتا ہے،کیا کمانے کی وجہ سے اب وہ گھر کا سربراہ مانا جائے گا
جب کہ گھر کےبہت سارے فیصلے اب بھی میں ہی کرتی ہوں؟
میرا یہ سوال قربانی کے اس حکم کی وجہ سے کہ سربراہ کے نام کی قربانی ضروری ہے
واضح ہو کہ وجوبِ قربانی کے لۓ کسی فرد کا گھر کا سربراہ ہونا ضروری نہیں اور نہ ہر سرابراہ کے ذمہ شرعاً قربانی لازم ہے، بلکہ وجوبِ قربانی کے لۓ ایامِ قربانی میں عاقل، بالغ، مسلمان مرد وعورت کے پاس قربانی کا نصاب ہونا ضروری ہے، لہذا جس مرد وعورت کے پاس ایامِ قربانی میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کےبقدر روزہ مرہ اخراجات سے زائد کیش رقم، مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد سازوسامان ، پراپرٹی وغیرہ موجود ہو، تو اس کے ذمہ شرعاً قربانی کرنا لازم ہے ورنہ نہیں، خواہ وہ گھر کا سربراہ ہو یا نہ ہو۔
البتہ نفلی قربانی کسی بھی بندے کی طرف سے کی جاسکتی ہے۔
فی المحیط للبرھانی:وشرط وجوبها اليسار عند أصحابنا رحمهم الله، والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم، أو عشرون ديناراً، أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومتاعه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها، فأما ما عدا ذلك من متاعه أو رقيقه أو ... أو متاع..... أو لغيرها فإنها.... في داره.
وفي «الأجناس» إن جاء يوم الأضحى وله مائتا درهم أو أكثر ولا مال غيره فهلك ذلك لم تجب عليه الأضحية، وكذلك لو نقص عن المائتين، ولو جاء يوم الأضحى ولا مال له ثم استفاد مائتي درهم فعليه الأضحية(الی قولہ)وفي «الأجناس» : وإن كان عنده حنطة قيمتها مائتا درهم يتجر بها، أو ملح قيمتها مائتا درهم، أو قصار عنده صابوت أو أشنان قيمتها مائتا درهم فعليه الأضحية اھ (86/6، ط: دار الکتب العلمیة)۔