السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس لفظ ’’ض‘‘ کے بارے میں کہ اس کا مخرج جو کہ حافۂ لسان ہے ، یہ آواز میں مشابہ ’’د‘‘ کے ہے یا ’’ظ‘‘ کے؟ بعض کو دال کے مشابہ پڑھتے سنا ہے اور بعض کو ظاء کے، اور یہ بھی سنا ہے کہ صحیح مخرج میں ظاء کے مشابہ آواز نکلتی ہے اور جو جان بوجھ کر ’’د‘‘کے مشابہ آواز نکالتا ہے اس کے پیچھے نماز بھی نہیں ہوتی ، آپ سے یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا یہ بات صحیح ہے؟ براہِ کرم تفصیلی جواب کے ساتھ راہ نمائی فرمائیں۔
جمہور فقہاء اور قرّاء کا اس پر اتفاق ہے کہ حرفِ ضاد کا مخرج حافۂ لسان اور اس کے متصل داڑھیں ہیں اور آواز ظاء کے مشابہ ہے، نہ کہ دال کے۔
پھر عوام کی اکثریت مخارج سے واقف نہیں ہوتی، نیز ’’ض‘‘ اور ’’ظ‘‘ کے مشابہ الصوت ہونے کی وجہ سے ان کے مخارج میں فرق نہیں کر پاتے، جبکہ اِن دونوں کے مخرج میں بھی تمییز کرنا مشکل ہے، اس لۓ اگر کوئی شخص باوجود کوشش کے صحیح مخرج پر قادر نہ ہو (اگرچہ درست پڑھنے کی کوشش جاری رکھنا اس پر بھی لازم ہے) تو اس کی نماز درست ہو جائےگی الاّ یہ کہ کوئی شخص ان حروف کے مخارج کے درمیان باہم فرق کرنے پر قادر بھی ہو اور پھر بھی وہ ’’ض‘‘ کو ’’د‘‘ پڑھے تو اس کی نماز فاسد ہو جائےگی۔
فی التاتارخانیة: لحافة اللّسان مخرجان وحرفان فمن حافة اللسان من أقصاها إلی ما یلی الأضراس ۔۔۔۔۔ الضاد (۱/۴۶۳)
وفی حاشية ابن عابدين: وفي التتارخانية عن الحاوي: حكى عن الصفار أنه كان يقول: الخطأ إذا دخل في الحروف لا يفسد لأن فيه بلوى عامة الناس لأنهم لا يقيمون الحروف إلا بمشقة. اهـ. وفيها: إذا لم يكن بين الحرفين اتحاد المخرج ولا قربه إلا أن فيه بلوى العامة كالذال مكان الصاد أو الزاي المحض مكان الذال والظاء مكان الضاد لا تفسد اھ (1/ 633)۔
وفی الدر المختار: ولو زاد كلمة أو نقص كلمة أو نقص حرفا، أو قدمه أو بدله (إلی قوله) لم تفسد ما لم يتغير المعنى إلا ما يشق تمييزه كالضاد والظاء فأكثرهم لم يفسدها اھ (1/ 632)۔
وفی حاشية ابن عابدين: قال في الخانية والخلاصة: الأصل فيما إذا ذكر حرفا مكان حرف وغير المعنى إن أمكن الفصل بينهما بلا مشقة تفسد، وإلا يمكن إلا بمشقة كالظاء مع الضاد المعجمتين والصاد مع السين المهملتين والطاء مع التاء قال أكثرهم لا تفسد اھ (1/ 633)۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0