کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نمازوں میں طِوالِ مفصل ، اوساطِ مفصل اور قصارِ مفصل کے علاوہ قرآن مجید کی دیگر آیاتِ بینات کی قراءت کی جائے تو کیا یہ خلافِ سنت ہوگا ؟ اور کیا نمازوں میں قرأتِ مسنونہ انہی تین اقسام میں منحصر ہے؟ اور اگر موضعِ طوال میں اوساط یا قصار کی تلاوت کی جائے تو کیا ایسا کرنا خلافِ سنت ہے؟ مدلّل جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
مخصوص نمازوں میں طِوال ، اوساط اور قصار کا پڑھنا یا اس کے بقدر دوسری سورتوں سے پڑھنا ہر دو امور بلا کراہت ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے پڑھنے سے مسنون قراءت کا ثواب حاصل ہو جائے گا اور ایسے شخص کو مخالفِ سنت بھی نہیں کہا جا سکتا، اسی طرح موقع اور مقام کی مناسبت سے طوال کی جگہ اوساط یا قصار کا پڑھنا بھی خلافِ سنت نہیں، البتہ بلا وجہ ایسا کرنا خلافِ استحباب ہے۔
في بدائع الصنائع: واما القدر المستحب من القراءة فقد اختلفت الروايات فيه عن أبي حنيفة رحمه الله ذكر في الاصل ويقرأ الامام في الفجر في الركعتين جميعاً باربعين خمسین ستین سوی فاتحة الكتاب وروی فی البحر عن ابی حنیفه رحمه اللہ ما بين ستين الى المائة إلى آخر ما قال واطال اھ (۱/۲۰۵)۔
وفي الخانية: والمستحب قراءة المفصل تیسیراً للامر عليه وتخفیفاً على القوم اھ (۱/۱۶۱)۔
وفي الفتاوى الهندية: واستحسنوا في الحضر طوال المفصل في الفجر والظهر وأوساطه في العصر والعشاء وقصاره في المغرب. كذا في الوقاية اھ(1/ 77)۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0