آج مغرب کے وقت میں امام بنا تھا ، دوسری رکعت میں ، میں نے سراً قرأت شروع کی ،مگر پہلی آیت کے ختم پر ہی مجھے یاد آگیا کہ مجھے جہراً قراءت کرنی ہے ، تو میں نے پھر پہلی آیت سے جہراً قرأت شروع کر دی ، کیا میری اور مقتدیوں کی نماز صحیح ہو گئی؟ براہِ کرم راہ نمائی فرما دیں۔
نماز تو ادا ہوگئی، مگر اعادۂ آیت کی بجائے قرأت وہیں سے شروع کرنی چاہیۓ تھی جہاں تک پڑھی جا چکی تھی۔
فی رد المحتار : تحت (قوله لكن إلخ) (إلی قوله) أن فيه التحرز عن تكرار الفاتحة في ركعة و تأخير الواجب عن محله ، و هو موجب لسجود السهو فكان مكروها ، و هو أسهل من لزوم الجمع بين الجهر و الإسرار في ركعة . (1/ 532)۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0