ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ، ان میں ہم تین نمازوں میں قراءت بلند آواز سے کرتے ہیں اور دو نمازوں میں قراءت بلند آواز سے نہیں کرتے، آخر اس کی شرعی وجہ کیا ہے؟
اس سلسلہ میں شرعی وجہ تو محض حکمِ شرعی ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے ان تین (صبح ، مغرب ، عشاء) کی نمازوں میں جہراً پڑھنے اور ظہر اور عصر میں سراً پڑھنے کا حکم دیا ہے اور بس ، جبکہ اس میں حکمت یہ ہے کہ ظہر و عصر ایسے اوقات ہیں کہ اس دوران شور و شغب، کاروبار اور دیگر معاملات وغیرہ بجا لانے کی فکر ہوتی ہے جس کی وجہ سے جہراً قرأت کرنا زیادہ مؤثر نہیں ہوتا ، اور دوسرے تینوں اوقات میں یہ صورت نہیں ہوتی اور جہراً پڑھنا دلوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0