ہم مسلمانوں پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ، ان میں سے ہم تین نمازوں میں شروع کی رکعات میں قرأت بلند (جہری) آواز سے کرتے ہیں، اور دو نمازوں میں قرأت ہلکی آواز میں کرتے ہیں، اس کی اسلامی شرعی وجہ کیا ہے؟
ظہر اور عصر میں "سراً "اور دیگر نمازوں میں" جہراً "قرأت کرنے کی اصل وجہ تو حکمِ الہی اور حضور نبی کریم ﷺ کا فعل ہے کہ آپ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا ہے جو احادیثِ مبارکہ اور صحیحہ سے بھی ثابت ہے اور ایک مسلمان کے لۓ مسلمان ہونے کی ناطے یہی مشعلِ راہ ہونا ضروری ہے ، تاہم اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ ظہر و عصر کاروبار اور دیگر مشاغل کے اوقات ہیں، ان نمازوں میں جہراً قرأت کی طرف کما حقہ توجہ کا نہ ہونا ایک فطری عمل ہے ، اور دیگر تینوں اوقات میں عموماً یہ مشاغل نہ ہونے کی وجہ سے جہراً قرأت کی طرف توجہ کامل رہتی ہے، جو خشیت کا باعث ہے اور خشیتِ الہٰی ہی مقصود ہے ، گویا عبادت کی ادائیگی میں بھی انسان کے فطری عوامل کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0