کیا کوئی مرد کسی عورت سے موبائل یا انٹرنیٹ پر خطوط کے ذریعے بات کرسکتا ہے، جبکہ موضوعِ کلام محض دین ہو اور مسلمان عورتوں کو مکمل دین اپنانے کی ترغیب دی جارہی ہو؟
ابتداءً تو مردوں کو اس طرح کی ترغیب براہِ راست غیر محارم عورتوں میں چلانے، ان کے ساتھ بلاوجہ شرعیہ ہم کلام ہونے، رابطہ رکھنے اور بے تکلف ہونے سے احتراز لازم ہے، اور اگر کسی وقت بات کرنے کی اشد ضرورت پڑجائے تو پردہ اور حدودِ شرعیہ کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کی محارم کی موجودگی میں یا اُن عورتوں کے مجمع میں جو اصلاحِ نفس کے لیے مجتمع ہوں اور اس بات کرنے سے کسی قسم کے فتنہ و فساد کا اندیشہ بھی نہ ہو تو اس صورت میں بات کرسکتے ہیں، ورنہ نہیں۔
قال النوویؒ (تحت قوله قالت مرحبا واهلا) وفیه جواز سماع كلام الا جنبیة ومرجاعتها الكلام للحاجة وجواز اذن المرأة فی دخول منزل زوجها لمن علمت علما محققا انه لا یكره بحیث لا یخلو بها الخلوة المحرمة (صحیح مسلم ج۲، ص۱۷۷)