کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اکثر خوشبوئیں جو آج کل بازار میں دستیاب ہیں ALCOHALIC (الکحل والی) ہوتی ہیں ، برائے مہربانی مسلمانوں کے لئے ان کے استعمال کے جواز کی وضاحت فرمائیں ، یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ تمام عرب ممالک جو کہ شریعت پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں ، ان میں اس قسم کی خوشبوؤں کی درآمد پر کوئی پابندی نہیں۔
اُلجھن اس بات کی ہے کہ کیا الکحل کا استعمال قطعی طور پر ناجائز ہے یا اس کا بیرونی استعمال جائز ہے؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ بازار میں دستیاب اکثر ALCOHALIC دواؤں میں تھوڑی مقدار میں الکحل شامل ہوتا ہے ، کیا ہمیں ا ن سے بچنے کے لئے بغیر الکحل والی دواؤں کو ترجیح دینی چاہئے؟
الکحل کے بارے میں تفصیل یہ ہے اگر تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ اس خوشبو یا دواء میں ملایا گیا الکحل ،کھجور یا انگور سے حاصل کیا گیا ہے تب تو اس خوشبو اور دواء کا استعمال کرنا قطعاً درست نہیں ، البتہ اگر ماہر معالج اس قسم کی دواء تجویز کردے اور اس کے برابر صحت افزا دوسری کوئی دوا موجود نہ ہو ، تو بوقتِ ضرورت ایسی دواء کے استعمال کی گنجائش ہے۔
اور جو الکحل گندم ، جو اور آلو وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں یہ مطلقاً حرام نہیں ، لہٰذا اس قسم کے الکحل ملی ہوئی دوائیوں اور خوشبوؤں کے استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہے، البتہ اس سے بھی احتراز کرنا بہتر اور افضل ہے۔
مقروض و محتاج آدمی کا کسی سرکاری ذمہ دار کےواسطہ سے ، سرکاری خزانے سے رقم لیکر قرض ادا کرنا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0مرد کے لئے پلاٹینیم کی انگوٹھی پہننے اور معتدہ بیوی اور بچوں کے نان نفقہ کا حکم
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0خاوند کا اپنی بیوی کو یکہنا کہ: یہ زیور تم پر حرام ہے،پھر اسے دوبارہ دیدینا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0ذاتی دکانوں پر بنانے ہوئے مصلے کا ملبہ اپنے استعمال میں لانا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0