السلام علیکم جناب مفتی صاحب
۱۔ مرد پر سونا حرام ہے، کیا مرد پلاٹینیم کی انگوٹھی پہن سکتا ہے؟
۲۔ عورتوں کی نماز کسی حدتک مردوں کی نما زسے مختلف ہے، کیا اس کے بارے میں کوئی حدیث موجود ہے، کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو سمٹ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے یا یہ کہ اللہ کے نبی نے عورتوں کو تشہد میں مردوں کی طرح نہ بیٹھنے کا حکم دیا ہے؟ کوئی حدیث یا کوئی واقعہ ہے جس میں اللہ کے نبی نے عورتوں کو مردوں کی طرح نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہو ؟
۳۔ کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ میں اپنی طلاق یافتہ بیوی پر یہ پابندی لگاؤں کہ اگر وہ دوسری شادی کرے تو میرا بیٹا مجھے واپس مل جائے ؟ قرآن وحدیث میں اس بارے میں کیا حکم ہے ؟ یہاں پر ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ طلاق کی وجہ میری بیوی کی ماں تھی اور میری مطلقہ ایک اچھے کردار کی عورت نہیں ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرا بیٹا وہاں اس ماحول میں ٹھیک پرورش نہیں پائے گا، میرے والد اور والدہ دونوں سلفی مسلک سے ہیں۔
۴۔ طلاق کے بعد عدت کا خرچہ اور بچہ کا نان نفقہ کس بنیاد پر طے پاتا ہے میرے سسرال والوں نے عدت کا خرچہ ۴۰۰۰ اور بچہ کا نان نفقہ ۴۰۰۰ روپے ماہانہ ڈیمانڈ کیا ہے اور میری اتنی حیثیت نہیں ہے ۔
۱۔ مرد کےلیے ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم کم چاندی کی انگوٹھی کے علاوہ کسی بھی دھات مثلاً پتھر، پلاٹینیم، پیتل وغیرہ کی انگوٹھی پہننا شرعاً ممنوع اور نا جائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ واضح ہو کہ جس طرح عمومی حالات میں عورت کے ستر کا حکم ہے، اسی طرح اس سے متعلق عبادات میں بھی اسی حکم کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ جیسے مرد کے لیے امامت، خطابت، اذان، تکبیرات اور دوران حج رمل وغیرہ جیسے امور ہیں، اسی طرح دوران نماز تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے، سینے پر ہاتھ باندھنے، کھڑا ہونے، رکوع کرنے تشہد کے لئے بیٹھنے اور سجدہ کرتے وقت بھی اس کے ستر کو ملحوظ رکھ کرا سے سمٹ کر سجدہ کرنے کو نہ صرف پسند کیا گیا ہے ، بلکہ اسے عورت کے لئے افضل و استر قرار دیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت کی نماز میں احادیث صحیحہ و آثار صحابہ و تابعین کی روشنی میں بتصریح فقہاء دس و بقول بعض چھبیس (۲۶)مواقع میں فرق ہے منجملہ ان مواقع کے ایک ہیئت سجدہ بھی ہے، جبکہ عورتوں کے سجدہ کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اپنے دونوں بازوں کو زمین پر بچھا دیں اور پیٹ کو رانوں سے ملا لیں ، اور دونوں قدموں کو دائیں جانب نکال کر بچھا دیں ان کو کھڑا نہ رکھیں، جبکہ اس طریقہ کے خلاف کی صورت میں نماز تو درست ہو جائیگی، لیکن ترک سنت کی وجہ سے مکروہ ہوگی، جس سے احتراز چاہیے۔
۳۔ جی ہاں ! اپنی مطلقہ پر مذکور شرط لگانا کہ وہ بچے کے کسی غیر محرم سے شادی نہیں کرے گی شرعاً جائز اور درست ہے، نیز اگر اس کے پاس رہنے سے بچہ کے اعمال ، اخلاق اور صحت پر برے اثرات پڑنے کا اندیشہ ہو تو بغیر شرط کے بھی بچہ کو اپنی زیر نگرانی رکھنے اور اس کی پرورش کرنے کی شرعا اجازت ہے۔
۴۔ مطلقہ کی عدت کا خرچہ اور بچہ کا ضروری نان و نفقہ ( مثلا کپڑے کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ ) شوہر کے ذمہ اس کی استطاعت کے موافق لازم ہے، لہذا سائل کے سسرال والوں کا اس سے ایک متعین اور بہت زیادہ مقدار میں خرچہ طلب کرنا شرعاً درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔ جبکہ اتنی مقدار کا دینا سائل پر لازم نہیں۔
کما في الدر المختار: (ولا يتختم) إلا بالفضة لحصول الاستغناء بها فيحرم (بغيرها كحجر) وصحح السرخسي اھ (6/ 359)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): فعلم أن التختم بالذهب والحديد والصفر حرام (إلی قوله) والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجل والنساء اھ (6/ 359)
وفي اعلاء السنن: عن علي ، قال : إذا سجدت المرأة فلتحتفز ، ولتضم فخذيها. ، عن يزيد بن أبى حبيب : أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مر على امرأتين تصليان فقال :« إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلى الأرض ، فإن المرأة ليست فى ذلك كالرجل ». (۳/ ۲۶، ۳۰)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وذكر الشارح أن المرأة تخالف الرجل في عشر خصال ترفع يديها إلى منكبيها وتضع يمينها على شمالها تحت ثدييها ولا تجافي بطنها عن فخذيها وتضع يديها على فخذيها تبلغ رءوس أصابعها ركبتيها ولا تفتح إبطيها في السجود وتجلس متوركة ولا تفرج أصابعها في الركوع ولا تؤم الرجال وتكره جماعتهن وتقوم الإمام وسطهن اهـ. (1/ 339)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وحاصل ما ذكره أن المخالفة في ست وعشرين. وذكر في البحر أنها لا تنصب أصابع القدمين كما ذكره اھ (1/ 504)
وكذا في الفتاوى الهندية: والمرأة لا تجافي في ركوعها وسجودها وتقعد على رجليها و في السجدة تفترش بطنها على فخذيها كذا في الخلاصة اھ (1/ 75)
و في المبسوط للسرخسي: فأما المرأة فتحتفز وتنضم وتلصق بطنها بفخذيها وعضديها بجنبيها هكذا عن علي - رضي الله تعالى عنه - في بيان السنة في سجود النساء ولأن مبنى حالها على الستر فما يكون أستر لها فهو أولى لقوله - صلى الله عليه وسلم -: «المرأة عورة مستورة». (1/ 23)
ففي الدر المختار: (و) الحاضنة (يسقط حقها بنكاح غير محرمه) أي الصغير، وكذا بسكناها عند المبغضين له؛ لما في القنية: لو تزوجت الأم بآخر فأمسكته أم الأم في بيت الراب فللأب أخذه. (3/ 565)
و في الدر المختار: (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) اھ (3/ 612)
وفيه أیضاً: (و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة اھ (3/ 609) واللہ اعلم بالصواب
مقروض و محتاج آدمی کا کسی سرکاری ذمہ دار کےواسطہ سے ، سرکاری خزانے سے رقم لیکر قرض ادا کرنا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0مرد کے لئے پلاٹینیم کی انگوٹھی پہننے اور معتدہ بیوی اور بچوں کے نان نفقہ کا حکم
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0خاوند کا اپنی بیوی کو یکہنا کہ: یہ زیور تم پر حرام ہے،پھر اسے دوبارہ دیدینا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0ذاتی دکانوں پر بنانے ہوئے مصلے کا ملبہ اپنے استعمال میں لانا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0