کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتی صاحبان درجِ ذیل مسائل کے بارے میں:
(۱) ایک شخص کا بینک میں اکاؤنٹ ہے اُس رقم پر بینک جو نفع دیتا ہے اُس سے وہ آدمی گاڑی کا ٹیکس ادا کرتا ہے ، کیا یہ جائز ہے؟ یا پھر مکان کا ٹیکس ادا کرسکتا ہے؟ یا پھر کسی غریب کی مدد کی جاسکتی ہے؟ یا پھر کسی گورنمنٹ ادارے میں کوئی کام پھنس جائے تو یہ رقم دی جاسکتی ہے؟
(۲) کسی معتبر آدمی سے سنا ہے کہ کلمہ طیبہ کے اندر پانچ (۵) فرض ہیں ، یہ جاننا ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ (۱) زندگی میں ایک بار کلمہ پڑھنا، (۲) اس کے معنی اور مفہوم کو سمجھنا ، (۳) اس کے نیچے زندگی گزارنا ، (۴) اس کے الفاظ صحیح اد اکرنا ، (۵) دوسروں تک پہنچانا ، کیا یہ ٹھیک ہے؟
(۳) کسی آدمی کو بجلی کا کرنٹ لگے اور وہ مرجائے کیا یہ شہید کہلائے گا یا نہیں؟
(۴) بینک میں کسی قسم کی ملازمت کرنا جائز ہے؟
(۵) دسویں محرم کو بہت سے دیندار لوگ بھی کچھ نہ کچھ پکا کر تقسیم کرتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟
(۶) کسی ادارے میں کوئی کام پھنس جائے کام بھی جائز ہو ، پھر بھی کچھ دئیے (رشوت) بغیر کام نہیں ہوتا ہو تو کیا کرنا چاہئے؟
(۷) بجلی، گیس، پانی اور ٹیکس کی مقررہ تاریخ گزرنے پر جو جرمانہ دینا پڑتا ہے کیا یہ سود ہوتا ہے؟ یہ دینا کیسا ہے؟
(۱) سودی بینک میں رکھی جانے والی رقم پر جو نفع ملتا ہے شرعاً سود ہے اسے اپنے استعمال میں لانا ، ثواب کی نیت سے کسی فقیر کو دینا یا اس سے ٹیکس وغیرہ ادا کرنا جائز نہیں، لہٰذا ایسا اکاؤنٹ کہ جس میں رکھی جانے والی رقم پر سود ملتا ہو ، بند کروادینا چاہئے اور اب تک اس اکاؤنٹ کے ذریعہ جتنا نفع حاصل کیا ہے اُسے بغیر نیتِ ثواب کے کسی مستحق کو دے دینا چاہئے ، البتہ اگر بہ مجبوری بینک اکاؤنٹ کھلوانا ہی ہو تو A/C یعنی کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ کھلوا لینا جائز ہے کہ اس میں سود نہیں ملتا۔
(۲) باوجود کوشش اور جستجو کے کلمہ طیبہ کے مذکورہ فرائض اس ترتیب پر مذہب کی کسی معتبر کتاب میں ہمیں نہیں ملے ، البتہ اتنا ضرور ہے کہ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے لئے کم از کم ایک مرتبہ کلمہ شہادت کا زبان سے پڑھنا ضروری ہے اور اسی طرح اس کے معنی و مفہوم کو سمجھ کر اس کے مقتضیٰ پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
(۳) ایسے مرنے والا شہیدِ آخرت کہلاتا ہے یعنی دنیا میں اسے غسل دیا جائے گا ، کفن پہنایا جائے گا عام مُردوں کی طرح ، اور آخرت میں وہ شہید والا ثواب پائے گا۔
کذا فی الدر: والغریب والحریق والغریب والمہدوم علیہ والمبطون والمطعون۔ الخ (ج۲، ص۲۵۲)
(۴) بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہے جیسے منیجر اور کیشیئر وغیرہ کی ملازمت ، ایسی ملازمت بالکل حرام ہے اور ناجائز ہے چنانچہ ایک حدیث مبارک میں رسول اکرم ﷺ نے سود کھانے والے ، سود دینے والے، سودی تحریر یا حساب لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے ، اور فرمایا کہ یہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں اور ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے ، البتہ بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہیں کہ نہ اس کا تعلق سود کے لکھنے سے اور نہ سود پر گواہ بننے سے اور نہ ہی سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت سے ہے جیسے چوکیدار وغیرہ کی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کے درمیان جواز اور عدمِ جواز کا اختلاف ہے ، تو جب یہ اختلاف جواز اور عدم جواز میں ہے تو بہتر یہی ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت سے بھی احتراز کیا جائے، اگرچہ ایسی ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔
(۵) اگر اس تقسیم سے مقصود اپنے مُردوں کو ایصالِ ثواب اور اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی ہو ، تو یہ جائز اور درست ہے، اور اگر لوگوں کے دکھلاوے کیلئے ، طعن و تشنیع سے بچنے کے لئے یا فقط اسی دن تقسیم کرنے سے زیادتیِ ثواب کا اعتقاد رکھنے یا اس رسم میں شرکت کرنے کیلئے کھانا وغیرہ تقسیم کیا جائے تو یہ بدعت ہے جس سے احتراز واجب ہے ، اور آج کل چونکہ یہ دوسری صورت ہی کا رواج ہے لہٰذا اس سے احتراز کیا جائے۔
(۶) کام اور ادارہ کی مکمل وضاحت کرکے پھر اس کا حکمِ شرعی معلوم کیا جائے۔
(۷) یہ مسئلہ فی الحال زیرِ غور اور تحقیق طلب ہے اس کی مکمل تحقیق کے بعد ہی حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاسکتا ہے، لہٰذا اس سلسلہ میں کم از کم دو (۲) ماہ کے بعد رابطہ کرکے اسکا حکم بھی معلوم کرلیں۔واﷲ اعلم!