توحید

صفاتِ باری تعالی کے بارے میں درست اور صحیح موقف

فتوی نمبر :
60006
| تاریخ :
2088-09-09
عقائد / ایمان و کفر / توحید

صفاتِ باری تعالی کے بارے میں درست اور صحیح موقف

مفتی صاحب! صفاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں سلف کا کیا عقیدہ ہے؟ آیا ان کے ظاہر ی معانی مراد ہیں یا کچھ اور؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور مسئلہ "صفاتِ باری تعالیٰ" کے بارے میں جمہور سلف و خلف کا عقیدہ تنزیہ و تقدیس کا ہے اور سب اس پر متفق ہیں کہ استواء اور نزول سے ظاہری اور حسی طور پر اترنا ، چڑھنا ، بیٹھنا مراد نہیں ، بلکہ معنی مرادی اللہ کے سپرد ہے ، یعنی اللہ ہی اس کا معنی جانتے ہیں ، جبکہ متأخرین علماء نے عوام کو تشبیہ اور تمثیل کے فتنہ سے بچانے کیلۓ قواعدِ عربیت و قواعدِ شریعت کے تحت ان متشابہات کے معنی بیان کۓ اور محاورات عرب میں جو عبارات کثیر الاستعمال تھے ، ان پر متشابہات کو محمول کیا ، چنانچہ امام مالک سے ان متشابہات کے متعلق جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ استواء معلوم ہے اور کیفیت مجہول اور غیر معقول ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس سے متعلق سوال کرنا بدعت ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ : فاما الذین فی قلوبھم زیع فیتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة و ابتغاء تاویله و ما یعلم تاویله الا اللہ (الآية : آل عمران)۔
و فی التفسير البسيط : و مذهب السلف في هذه الصفه و غيرها من الصفات هو الإثبات ، أعني إثبات الصفة و تفويض الكيفية إلى الله تعالى ، على ما قال الإمام مالك رحمه الله : الاستواء معلوم و الكيف مجهول و الإيمان به واجب و السؤال عنه بدعة ، أما تفويض الصفة و الكيف فهو مذهب المبتدعة الذين لا يثبتون الصفة بل يفوضونها ، و ما نقله المؤلف هنا ظاهره الحق ، و لكنه لا يتسق مع مذهبه الأشعري فلعله فهم منه التفويض والله أعلم. (11/ 410)۔
و فی زاد المسير في علم التفسير : و قال الحافظ ابن كثير في «تفسيره» 2/ 280 عند هذه الآية : للناس في هذا المقام مقالات كثيرة ، ليس هذا موضع بسطها ، و إنما نسلك في هذا المقام مذهب السلف الصالح : مالك و الأوزاعي و الثوري، و الليث بن سعد و الشافعي، و أحمد و إسحاق و غيرهم من أئمة المسلمين قديما و حديثا و هي إمرارها كما جاءت ، من غير تكييف و لا تشبيه و لا تعطيل، و الظاهر المتبادر إلى أذهان المشبهين منفي عن الله فإن الله لا يشبهه شيء من خلقه "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" بل الأمر كما قال الأئمة منهم نعيم بن حماد الخزاعي شيخ البخاري : من شبه الله بخلقه فقد كفر ، و من جحد ما وصف الله به نفسه فقد كفر ، و ليس فيما وصف الله به نفسه و لا رسوله تشبيه ، فمن أثبت لله تعالى ما وردت به الآيات الصريحة و الأخبار الصحيحة على الوجه الذي يليق بجلال الله تعالى و نفى عن الله تعالى النقائص فقد سلك سبيل الهدى اھ(2/ 128)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60006کی تصدیق کریں
0     1506
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • یا رسول اللہ کہنا کیسا ہے ؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   توحید 0
  • اللہ تعالیٰ کیلئے (اوپر والا) کا لفظ استعمال کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   توحید 0
  • توحید بالصفات

    یونیکوڈ   اسکین   توحید 0
  • عذاب قبر سے متعلق عقیدہ - کیا عذاب قبر برحق ہے؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • ’’لو نجٰی أحد من عذاب القبر لنجٰی سعد بن معاذ‘‘ حدیث کی تحقیق

    یونیکوڈ   توحید 2
  • عذاب قبر برحق ہے - عالم برزخ کہاں ہے ؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • حیات انبیاء و اولیاء

    یونیکوڈ   توحید 0
  • وسیلہ کی حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   توحید 0
  • عذابِ قبر

    یونیکوڈ   توحید 0
  • اس کائنات کا خالق اللہ ہے، تو دیگر کائنات کا خالق کون؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • قبر مبارک میں حضور پر نور ﷺ کی حیات

    یونیکوڈ   توحید 0
  • عذابِ قبر حق ہے

    یونیکوڈ   توحید 0
  • قبر میں صرف روح کو عذاب دیا جاتا ہے یا جسم کو بھی

    یونیکوڈ   توحید 1
  • کلام اللہ صوت اور حروف سے منزہ ہےیا نہیں؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • کیا اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ صفات کی بھی عبادت مطلوب ہے ؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • وجود باری تعالیٰ کے بارے میں شک پیدا ہونا

    یونیکوڈ   توحید 0
  • صفاتِ باری تعالی کے بارے میں درست اور صحیح موقف

    یونیکوڈ   توحید 0
  • ’’میں اللہ کو نہیں مانتا’’ اور ہاں میں مسلمان نہیں ہوں‘‘ کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   توحید 1
  • عام روز مرہ کے کاموں میں کسی سے مدد مانگنا

    یونیکوڈ   توحید 0
  • معمولی باتوں پر اللہ کا واسطہ دینا

    یونیکوڈ   توحید 0
  • کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   توحید 0
Related Topics متعلقه موضوعات