السلام علیکم! میں نے ڈاکٹر اسرار صاحب کا لیکچر سنا کہ اللہ کے سوا کسی سے مدد مانگنا شرک ہے لیکن ایک بار ہم مانگ سکتے ہیں، مجھے اسکی سمجھ نہیں آ رہی , کیونکہ آج ہمیں خاص طور پر اس وقت کئی بار مدد کی ضرورت ہوتی ہے جب کسی کا عدالتوں میں کوئی کیس ہوتا ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی غیر مسلم دوست سےسپورٹ یا مدد لینا اسلام کی رو کے خلاف ہے ؟
سائل نے ڈاکٹر اسرار صاحب کے جس لیکچر کا حوالہ دیا ہے اُسکے متعلق ہمیں علم نہیں، اس لئے اُسکے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا، تاہم وہ کام جو انسان کے اختیار میں ہو (جیساکہ روز مرہ کے کام کاج ہوتے ہیں) اس میں انسانوں سے مدد اور تعاون مانگنا شرک نہیں بلکہ بلا شبہ جائز اور درست ہے، اسی طرح اگر اسلام کو نقصان اور کفر کو تقویت ملنے کا اندیشہ نہ ہو تو روز مرہ کے کاموں میں غیر مسلم شخص سے بھی مدد لی جا سکتی ہے، تاہم ما فوق الاسباب امور میں کسی انسان کو مددگار سمجھ کر اُس سے مدد مانگنا شرک ہے جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ : وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَ لَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ۔ (يونس: 106)۔
و فیه ایضاً : لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهِ وَ مَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ۔ (الرعد: 14)۔
و فی شرح العقيدة الطحاوية : (إن الله واحد لا شريك له) هذا هو ما نقوله و ما نعتقده في وحدانيۃ الله تعالى(إلی قوله)(إن الله واحد) هو واحد ، و الوحدة تنافي الشريك ، و لهذا أكدها بقوله : (لا شريك له)، فهو متفرد عن الشركاء ، فهو الربُ و لا ربَ غيره ، فهو ربُ كلِ شيء ، فهو واحد في ربوبيته في أفعاله ، فلا خالق و لا رازق و لا مدبر لهذا الوجود سواه ، و هو واحد في إلهيته فلا إله غيره ، و لا شريك له ، و لا معبود بحق سواه ، و هو واحد في أسمائه و صفاته ، فلا شبيه له في شيء من صفاته و أفعاله۔اھ (ص: 22)۔
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0