کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ حضرت سعدؓ کے جنازے کے ساتھ فرشتوں کی اتنی کثرت تھی کہ آفتاب چھپ گیا تھا لوگوں نے نبی علیہ السلام سے سبب دریافت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا فرشتوں کی کثرت سے آفتاب چھپ گیا ہے، دفن کے بعد آپ ان کی قبر کے پاس بیٹھے اس وقت آپ کا چہرہ زرد تھا اور آنسو جاری تھے، تھوڑی دیر بعد آپ کی یہ حالت دور ہوئی اور کھڑے ہوکر فرمایا: ’’لو نجٰی احد من عذاب القبر لنجٰی سعد بن معاذ‘‘ لوگوں نے حال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا دفن کے بعد ان پر دوزخ کے ستر دروازے کھولے گئے اور قبر حملہ آور ہوئی جب میں رنج کی وجہ سے زرد ہوگیا تو اللہ نے زمین سے کہا ہم اپنے حبیب کا زرد چہرہ نہیں دیکھ سکتے اور ان کو بخش دیا پھر قبر میں جنت کے دروازے کھول دئیے گئے، صحابہؓ نے پوچھا ان پر کس وجہ سے عذاب ہوا آپ نے فرمایا ’’بسوءِخلقہ من اہلہٖ‘‘ (اپنی زوجہ کے ساتھ بدخلقی کرنے کی وجہ سے) اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہو تو اس کا مأخذ کیا ہے اس کا حوالہ درکار ہے؟
سوال میں مذکور بیان کے موافق تو کوئی حدیث نہیں مل سکی البتہ درجِ ذیل جو چند احادیث بیان کی گئی ہیں ان سے حضرت سعد بن معاذؓ پر اول قبر کی تنگی اور پھر آپ کی دعاء و ذکر سے اس تنگی کا دور ہونا معلوم ہوتا ہے اور اس تنگی کی علت پیشاب کے معاملہ میں احتیاط نہ کرنے کو بتایا گیا نہ کہ کچھ اور، اور یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے اکثر لوگ غفلت ہی برتتے ہیں جن سے احتراز چاہئے اور نیز بلاوجہ کسی صحابی رسول اللہ ﷺ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی والے جملے استعمال کرنے سے بھی احتراز چاہئے، کیونکہ وہ مغفور ہیں اور ان سے جو بعض نا مناسب باتوں کا صدور ہوا ہے وہ ہماری تعلیم اور عبرت کیلئے کروایا گیا۔
وفی المرقاۃ شرح مشکوٰۃ: عن جابرؓ قال خرجنا مع رسول اﷲ ﷺ الٰی سعد بن معاذؓ حین توفی فلما صلٰی علیہ رسول اﷲ ﷺ ووضع فی قبرہٖ وسوی علیہ سبح رسول اﷲ ﷺ فسبحنا طویلا ثم کبر فکبرنا فقیل یا رسول اﷲ سبحت ثم کبرت قال لقد تضایق علی ہذا العبد الصالح قبرہ حتٰی فرجہ اﷲ عنہ۔ اھـ (ج۱، ص۳۵۹)-
وفی سنن النسائی: عن ابن عمرؓ عن رسول اﷲ ﷺ قال ہذا الذی تحرک لہ العرش وفتحت لہٗ ابواب السماء وشہدہٗ سبعون الفًا من الملائکۃ لقد ضم ضمۃ ثم فرج عنہ۔ اھـ (ص:۲۸۹)-
وفی حاشیتہٖ: قال الحکیم الترمذی سبب ہذا الضغط أنہٗ ما من أحدٍ إلا وقد ألم بذنبٍ مّا فتدرکہٗ ہذہِ الضغطۃ جزاء لہا ثم تدرکہ الرحمۃ وکذالک ضغطۃ سعد بن معاذؓ فی التقصیر من البول قلت یشیر الٰی ما اخرجہٗ البیہقی من طریق ابن اسحاق حدثنی امیۃ بن عبد اﷲ انہٗ سأل بعض اہل سعد ما بلغکم من قول رسول اﷲ ﷺ فی ہذا فقالوا ذکرلنا ان رسول اﷲ ﷺ سئل عن ذالک فقال کان یقصر فی بعض الطہور من البول۔ اھـ (ص۲۹۵)واﷲ اعلم
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0