کیا فرماتے علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، ساتھ میں اس کی صفات کی بھی عبادت کریں ، کیونکہ سب اچھی صفات اس کی ذات میں موجود ہیں ، پوچھنا یہ ہے کہ اللہ پاک نے جو ازل میں کلام فرمایا ہے ، یعنی قرآن پاک یا جو کلام فرماتا ہے ، یا جو حکم دیا ہے ، یا دیتا ہے ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں؟ کیا ان کی بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کرنی چاہیے؟
دیگر صفات کی طرح کلام الٰہی بھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے ، جو کہ تمام صفاتِ باری تعالیٰ کی معرفت اور پہچان حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ، اور مقصود بالعبادت فقط ذاتِ باری تعالیٰ ہے نہ کہ صفات ، لہٰذا سائل کو بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَ قَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾ (الإسراء: 23)۔
و فی شرح العقائد للنسفی : و له صفات لما ثبت من أنه تعالیٰ عالم ، قادر ، حی إلی غیر ذلك (إلی قوله) و ھی لا ھو و لاغیرہ یعنی أن صفات اللہ تعالیٰ لیست عین الذات و لا غیر الذات فلا یلزم قدم الغیر اھ(ص:۴۹، ۴۸)۔
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0