اہل سنت والجماعت کا کیا عقیدہ ہے کہ کیا اللہ جل شانہ کا کلام صوت اور حروف سے منزہ ہے یا نہیں؟ کیا اللہ کے کلام کی جانب صوت کی نسبت کی جاسکتی ہے؟
اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ کلام اللہ کلام نفسی ہے اور کلام نفسی صوت اور حروف سے منزہ ہے، اس لیے کلام اللہ کی طرف صوت کی نسبت درست نہیں، البتہ ہمارے سامنے جو قرآن مجید ہیں، یہ کلام لفظی ہے جو حروف اور نقوش پر مشتمل ہے۔
في شرح العقائد النسفية: فقال: وہو ٲي اللہ تعالی متکلم بکلام هو صفة له ضرورة امتناع ٳثبات المشتق للشیئ من غیر قیام مٲخذ الاشتقاق به (ٳلی قوله)لیس من جنس الحروف والأصوات ضرورة اھـ (ص:۱۷۱)۔
وفیه ٲیضا: والکلام وهی صفة ٲزلية، عبر عنها بالنظم المسمی بالقرآن، المرکب من الحروف، وذلك لأن کل من یٲمر وینهی ویخبر یجد في نفسه معنی، ثم یدل علیه بالعبارۃ، ٲو الکتابة، أو الإشارة وهو غیر العلم، ٳذ قد یخبر الإنسان عما لم یعلم، بل یعلم خلافه وغیر الإرادۃ، لإنه قد یٲمر بما لایرید، کمن ٲمر عبدہ قصدا ٳلی ٳظہار عصیانه، وعدم امتثاله لأوامرہ ویسمی هذا کلاما نفسیا اھـ (ص:۱۶۹) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0