کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور بکر کی آپس میں کسی بات پر ناراضگی ہے، زید بکر سے معافی مانگنے اور صلح کرنے کیلۓ تیا ر اور رضامند تھا، لیکن بکر نہیں مان رہا تھا، تو بکر کی بہن نے بکر کو کہا کہ جب وہ معافی مانگ رہا ہے تو تم اللہ کی رضا کی خاطر اس کو معاف کردوتو بکر نےغصہ میں کہا کہ ’’میں اللہ کو نہیں مانتا‘‘ بہن نے کہا تم کیسی بات کرتے ہو، کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ تو بکر نے کہا کہ ’’ہاں! میں مسلمان نہیں ہوں‘‘۔ اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں بکر کیلۓ کیا حکم ہے؟ کیا وہ مسلمان ہے یا نہیں؟ اس کے نکاح کا کیا حکم ہے؟ او ر کیا ایسے شخص کو، اگر اپنی بات سے توبہ نہ کرے تومیراث سے محروم کیا جاسکتا ہے؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو بکر اپنے مذکور الفاظ کہ ’’میں اللہ کو نہیں مانتا، ہاں! میں مسلمان نہیں ہوں‘‘ کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہو گیا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا نکا ح بھی ختم ہو چکا ہے، لہٰذا اس پر لازم ہے کہ دوبارہ کلمہ پڑھ کر تجدیدِ ایمان کرے اور باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح بھی کرے اور اپنے اس فعلِ قبیح پر اللہ جل شانہ کے حضور بصدقِ دل توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لۓ اس طرح کے کلام سے مکمل اجتناب کرے۔
تاہم اگر مذکور شخص اپنے اس فعل سے توبہ تائب نہ ہو، بلکہ اپنے کفر پر بدستور قائم رہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے مسلمان مورث کی میراث میں حصہ دار نہ ہوگا۔
فی الفتاویٰ البزازية علٰی هامش الفتاویٰ الہندية: ضرب عبدہ أو ولدہ کثیرا، فقیل له الست بمسلم فقال لا قیل یکفر إذا قال عمدًا وإن قال غلطًا لا یکفر۔ اھ (ج۶، ص۳۳۰)۔
وفي الفتاوى الهندية: وقد حكي عن بعض أصحابنا أن رجلا لو قيل له ألست بمسلم فقال لا، يكون ذلك كفرا كذا في فتاوى قاضي خان قالت امرأة لزوجها ليس لك حمية ولا دين الإسلام ترضى بخلوتي مع الأجانب فقال الزوج ليس لي حمية ولا دين الإسلام فقد قيل أنه يكفر (2/ 277)۔
وفی قاضی خان علی ھامش الھندية: اجمع اصحابنا علی ان الردة تبطل عصمة النکاح و تقع الفرقة بینھما بنفس الردة اھ(3/581)۔
وفی السراجی: واما المرتد فلایرث من احد لامن مسلم ولامن مرتد مثله اھ(ص:59)۔
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0