توحید

’’میں اللہ کو نہیں مانتا’’ اور ہاں میں مسلمان نہیں ہوں‘‘ کہنے کا حکم

فتوی نمبر :
59920
| تاریخ :
2021-03-25
عقائد / ایمان و کفر / توحید

’’میں اللہ کو نہیں مانتا’’ اور ہاں میں مسلمان نہیں ہوں‘‘ کہنے کا حکم

کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور بکر کی آپس میں کسی بات پر ناراضگی ہے، زید بکر سے معافی مانگنے اور صلح کرنے کیلۓ تیا ر اور رضامند تھا، لیکن بکر نہیں مان رہا تھا، تو بکر کی بہن نے بکر کو کہا کہ جب وہ معافی مانگ رہا ہے تو تم اللہ کی رضا کی خاطر اس کو معاف کردوتو بکر نےغصہ میں کہا کہ ’’میں اللہ کو نہیں مانتا‘‘ بہن نے کہا تم کیسی بات کرتے ہو، کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ تو بکر نے کہا کہ ’’ہاں! میں مسلمان نہیں ہوں‘‘۔ اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں بکر کیلۓ کیا حکم ہے؟ کیا وہ مسلمان ہے یا نہیں؟ اس کے نکاح کا کیا حکم ہے؟ او ر کیا ایسے شخص کو، اگر اپنی بات سے توبہ نہ کرے تومیراث سے محروم کیا جاسکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو بکر اپنے مذکور الفاظ کہ ’’میں اللہ کو نہیں مانتا، ہاں! میں مسلمان نہیں ہوں‘‘ کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہو گیا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا نکا ح بھی ختم ہو چکا ہے، لہٰذا اس پر لازم ہے کہ دوبارہ کلمہ پڑھ کر تجدیدِ ایمان کرے اور باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح بھی کرے اور اپنے اس فعلِ قبیح پر اللہ جل شانہ کے حضور بصدقِ دل توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لۓ اس طرح کے کلام سے مکمل اجتناب کرے۔
تاہم اگر مذکور شخص اپنے اس فعل سے توبہ تائب نہ ہو، بلکہ اپنے کفر پر بدستور قائم رہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے مسلمان مورث کی میراث میں حصہ دار نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفتاویٰ البزازية علٰی هامش الفتاویٰ الہندية: ضرب عبدہ أو ولدہ کثیرا، فقیل له الست بمسلم فقال لا قیل یکفر إذا قال عمدًا وإن قال غلطًا لا یکفر۔ اھ (ج۶، ص۳۳۰)۔
وفي الفتاوى الهندية: وقد حكي عن بعض أصحابنا أن رجلا لو قيل له ألست بمسلم فقال لا، يكون ذلك كفرا كذا في فتاوى قاضي خان قالت امرأة لزوجها ليس لك حمية ولا دين الإسلام ترضى بخلوتي مع الأجانب فقال الزوج ليس لي حمية ولا دين الإسلام فقد قيل أنه يكفر (2/ 277)۔
وفی قاضی خان علی ھامش الھندية: اجمع اصحابنا علی ان الردة تبطل عصمة النکاح و تقع الفرقة بینھما بنفس الردة اھ(3/581)۔
وفی السراجی: واما المرتد فلایرث من احد لامن مسلم ولامن مرتد مثله اھ(ص:59)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59920کی تصدیق کریں
1     1703
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • یا رسول اللہ کہنا کیسا ہے ؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   توحید 0
  • اللہ تعالیٰ کیلئے (اوپر والا) کا لفظ استعمال کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   توحید 0
  • توحید بالصفات

    یونیکوڈ   اسکین   توحید 0
  • عذاب قبر سے متعلق عقیدہ - کیا عذاب قبر برحق ہے؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • ’’لو نجٰی أحد من عذاب القبر لنجٰی سعد بن معاذ‘‘ حدیث کی تحقیق

    یونیکوڈ   توحید 2
  • عذاب قبر برحق ہے - عالم برزخ کہاں ہے ؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • حیات انبیاء و اولیاء

    یونیکوڈ   توحید 0
  • وسیلہ کی حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   توحید 0
  • عذابِ قبر

    یونیکوڈ   توحید 0
  • اس کائنات کا خالق اللہ ہے، تو دیگر کائنات کا خالق کون؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • قبر مبارک میں حضور پر نور ﷺ کی حیات

    یونیکوڈ   توحید 0
  • عذابِ قبر حق ہے

    یونیکوڈ   توحید 0
  • قبر میں صرف روح کو عذاب دیا جاتا ہے یا جسم کو بھی

    یونیکوڈ   توحید 1
  • کلام اللہ صوت اور حروف سے منزہ ہےیا نہیں؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • کیا اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ صفات کی بھی عبادت مطلوب ہے ؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • وجود باری تعالیٰ کے بارے میں شک پیدا ہونا

    یونیکوڈ   توحید 0
  • صفاتِ باری تعالی کے بارے میں درست اور صحیح موقف

    یونیکوڈ   توحید 0
  • ’’میں اللہ کو نہیں مانتا’’ اور ہاں میں مسلمان نہیں ہوں‘‘ کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   توحید 1
  • عام روز مرہ کے کاموں میں کسی سے مدد مانگنا

    یونیکوڈ   توحید 0
  • معمولی باتوں پر اللہ کا واسطہ دینا

    یونیکوڈ   توحید 0
  • کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   توحید 0
Related Topics متعلقه موضوعات