کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک شخص کا اپنی بیوی سے خلع ہو ا ، اس کے بعد علاقہ کے چند افراد جہیز کا سامان واپس لانے کیلۓ اس شخص کے پاس گئے تو اس نے جہیز کا سامان واپس دینے سے انکار کیا، لڑکی والوں نے ایک ادارے کا فتویٰ اس کو دکھایا کہ اس فتویٰ کے مطابق جہیز لڑکی کا حق ہے، اس نے فتویٰ لیکر زمین پر پھینکا اور کہا "چھوڑو شریعت کو" سوال یہ ہے کہ مذکور کلمات اور اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیکر ممنون فرمائیں۔
شخصِ مذکور کے الفاظ خطرناک ضرور ہیں، مگر ان الفاظ سے اس کا مقصداگر شریعت سے انکار نہ ہو اور فتوی کی اہانت بھی نہ کی ہو تو اس سے وہ کافر نہیں ہوا ہے ، البتہ شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ اپنے ان الفاظ پر توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لۓ اس قسم کے بے ادبی اور گستاخی پر مبنی الفاظ سے احتراز کرے۔
في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر : و يكفر بقوله ماذا أعرف الشرع أو قال ماذا أصنع بالشرع و بقوله الشرع و أمثاله لا يفيدني و لا ينفذ أو قال لماذا يصلح لي مجلس العلم أو ألقى الفتوى على الأرض و قال أين جه شرعست أو قال ماذا أشرع هذا أو قال ماذا أعرف الطلاق و الملاق أو قال من علم حيل را منكرم أو قال اذهب معي إلى الشرع فقال لا أذهب حتى بالبيدق كفر إذا عاند الشرع بخلاف ما إذا أراد دفعه في الجملة عند المخاصمة أو قصد أنه صحح الدعوى فيستحق المطالبة أو تعلل لأن القاضي ربما لا يكون جالسا في المحكمة فلا يكفر أما لو قال إلى القاضي فقال لا أذهب فلا يكفر اھ(2/ 510)۔
و في بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية و شريعة نبوية : قال ماذا يصلح لي مجلس العلم أو ألقى الفتوى على الأرض أو قالت لعنة الله أو اللعنة على الزوج العالم أو قال لعالم عويلم استخفافا كله كفر اھ (2/ 383)۔