کیا فرماتےہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ضلع چکوال کا مستقل رہائشی ہوں، پنڈی میں سرکاری ملازمت کرتا ہوں، ایک ہفتہ کے بعد چکوال (گھر) جاتا ہوں ، چکوال سے پنڈی کا فاصلہ ۱۱۰ کلومیٹر ہے، ملازمت کی غرض سے پنڈی میں گزارے جانے والے ہفتہ میں کیا پوری نماز پڑھوں گا یا قصر نماز پڑھوں گا؟یہاں پر گورنمنٹ نے رہائش دی ہوئی ہے۔
سائل نے موضعِ ملازمت میں اگر پندرہ یا اس سے زائد راتیں قیام کیا ہو اور اس کے وہاں ٹھہرنے کی جگہ بھی مختص کر دی گئی ہو جہاں وہ اپنا مختصر ضروری رہائشی سامان، بستر، کپڑے، جوتے ، بیگ اور برتن وغیرہ رکھتا ہو اور گھر سے واپسی پر وہ اپنی اسی مختص ومتعین جگہ دوبارہ قیام کرتا ہو تو وہ اس کا وطنِ اقامت ہے، اس کو چاہیۓ کہ اس جائے ملازمت میں پوری نماز ادا کرے۔
فی بدائع الصنائع: وأما بیان ما یصیر المسافر به مقیماً فالمسافر یصیر مقیماً بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشیاء: أحدها صریح نیة الإقامة وهو أن ینوی الإقامة خمسة عشر یوماً فی مكان واحد صالح للإقامة اھ (۱/۹۷)۔
وفی الفتاوى الهندية: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية اھ(1/ 139)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4